உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں مسلسل Terrorist Attack، دہشت گرد تنظیمیں و پاکستان میں مقیم ان کے آقا کشمیر میں امن قائم ہونے کی فضا سے خوفزدہ

    Youtube Video

    Terrorist Attack,: تقریبا پانچ ماہ کے وقفے کے بعد وادی کشمیر میں شہریوں پر ملی ٹنٹ حملوں کی آخر کیا وجہ ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کس طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ا س بارے میں جموں و کشمیر کے سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید کا کہنا ہے کہ ملیٹنٹ تنظیمیں اور پاکستان میں مقیم ان کے آقا کشمیر میں امن قائم ہونے کی فضا سے خوفزدہ ہوچکے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: وادی کشمیر jammu and kashmir میں گزشتہ کئی روز سے ملیٹنٹوں کی جانب سے عام شہریویں کو نشانہ (terrorists targeting civilians in Kashmir) بنانے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران ملیٹنٹوں نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں عام شہریوں پر گولیاں چلاکر انہیں زخمی کردیا۔ پلوامہ ضلع میں اتوار کی شام دو اور پیر کی صُبح کو مزید دو غیر ریاستی باشندوں کو ملیٹنٹوں نے اپنا نشانہ بنایا۔ پیر کی شام ملیٹنٹوں نے شوپیاں میں بال جی نامی ایک کشمیری پنڈت پر نزدیک سے گولیاں چلا کر اسے زخمی کردیا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں اور لیڈران نے حسب معمول ملی ٹنٹون کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کی ہے۔وادی میں ان حملوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈائیریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے کہا کہ عام لوگ اور سیول سوسائیٹی ان ہلاکتوں کی مذمت کرتی ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اسطرح کے حملوں میں ملوث ملی ٹنٹون کو عنقریب ہی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    تقریبا پانچ ماہ کے وقفے کے بعد وادی کشمیر میں شہریوں پر ملی ٹنٹ حملوں کی آخر کیا وجہ ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کس طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ا س بارے میں جموں و کشمیر کے سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید کا کہنا ہے کہ ملیٹنٹ تنظیمیں اور پاکستان میں مقیم ان کے آقا کشمیر میں امن قائم ہونے کی فضا سے خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئےف ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا ملیٹنٹوں کے لئے آسان کام ہے اور ایسا کرکے وہ کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، مُجھے لگ رہا ہے کہ تقریبا پانچ ماہ قبل اسی طرح کے واقعات سے کشمیر میں ایک ڈر کا ماحول ہوگیا تھا جو دہشت گردوں کا ایجنڈا ہوتا ہے کیونکہ اگر کشمیر میں خوف کا ماحول نہیں ہوگا تو لوگ ملی ٹینسی کے خلاف بولتے ہیں ۔

    کشمیر میں 24 گھنٹے میں 4 Terrorist Attack، ایک کشمیری پنڈت سمیت 6 افراد زخمی، ایک شہید

    عام لوگ ترقی کی بات کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بارے میں بات ہوتی ہے جو دہشت گردوں کے ایجنڈے کے بر عکس ہے لہذا ملی ٹنٹوں نے ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بناکر ڈر کا ماحول پیدا کرنے کا حربہ اپنالیا : ایس پی وید نے کہا کہ حفاظتی عملے کے ساتھ مقابلہ کرکے ملی ٹنٹوں کو کافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے لہذا وہ عام شہریوں کو نشانہ بناکر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ اُس تاثُر کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ایس پی وید نے کہا کہ دی کشمیر فائیلز نامی فلم میں کشمیری پنڈتوں پر ہوئے ظُلم و ستم کی عکاسی اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کہ کشمیری مہاجرین کو عنقریب ہی وادی میں دوبارہ بسایا جائے گا سے ملیٹنٹ تنظیمیں اور انکے آقا بوکھلا گئے ہیں۔ لہذا وہ اسطرح کی حرکات انجام دینے لگے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا حفاظتی عملے کے لئے ایسے واقعات کو روکنا ممکن ہے ایس پی وید نے کہا کہ ایسا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

    Jammu and Kashmir: حدبندی کمیشن نے عوام، جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈران کے ساتھ دو روزہ بات چیت شروع کی

    انہوں نے کہا، میں سمجھتا ہوں کہ جموں و کشمیر پولیس بنیادی سطح پر عام لوگون سے جُڑی ہوئی ہے اور بروقت انٹیلیجنس ایسے واقعات کو روک سکتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ قریب پانچ ماہ قبل اسطرح کے واقعات میں ملوث ملیٹنٹوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں اپنے انجام تک پہنچا دیا گیا حالانکہ اس میں کچھ وقت ضرور لگا تاہم مجھے پورا بھروسہ ہے کہ انٹلی جنس ایجنسیاں ایسے واقعات رونما ہونے سے پہلے ہی چوکس رہیں گی اور ملی ٹنٹوں کے ناپاک عزائیم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : واضح رہے کہ گزشتہ تین روز سے وادی میں عام لوگوں پر ہوئے حملوں کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں متحرک ہوگئی ہیں اور حساس مقامات پر حفاظتی بندو بست کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: