உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد کا کانگریس چھوڑنا جموں وکشمیر میں NC-PDP کے لئے برا اور BJP کے لئے کیوں ہے خوشخبری؟

    غلام نبی آزاد کا کانگریس چھوڑنا جموں وکشمیر میں NC-PDP کے لئے برا اور BJP کے لئے کیوں ہے خوشخبری؟

    غلام نبی آزاد کا کانگریس چھوڑنا جموں وکشمیر میں NC-PDP کے لئے برا اور BJP کے لئے کیوں ہے خوشخبری؟

    کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعہ کے روز کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے راہل گاندھی اور ان کے قریبی لیڈران کو پارٹی کی انتخابی ناکامی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu, India
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعہ کے روز کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے راہل گاندھی اور ان کے قریبی لیڈران کو پارٹی کی انتخابی ناکامی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس حادثہ کو جموں وکشمیر کے بی جے پی لیڈران نے اپنے لئے ‘خوش آئند‘ اور نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے ‘بدقسمتی‘ والا بتایا ہے۔

      جیسا کہ کانگریس لیڈران نے اس ویڈیو کو کاپی پیسٹ کیا، جس میں آزاد کے وداعی خطاب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ آزاد کے استعفیٰ کو کانگریس لیڈران نے ان آنسووں کے قرض کی ادائیگی قرار دیا۔ وہیں بی جے پی لیڈران نے اسے ‘نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لئے بہت برا دن‘ کہا۔ جموں وکشمیر سے جڑے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا، ‘کانگریس تقریباً معدوم ہوچکی ہے، یہ ریاست میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لئے سب سے برا دن ہے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      غلام نبی آزاد نے BJP میں شامل ہونے سے کیا انکار، کہا- جموں وکشمیر میں جلد نئی پارٹی بناوں گا

      یہ بھی پڑھیں۔

      Ghulam Nabi Azad نے آخر کیوں 50 سال بعد کانگریس اور راہل گاندھی سے حاصل کی آزادی

      واضح رہے کہ جس دن غلام نبی آزاد نے استعفیٰ دیا، اس دن بی جے پی اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے اور آزاد کے کانگریس سے باہر ہونے کے سبب پیدا ہوئی خلا کو پرکرنے کی حکمت عملی بنانے میں لگ گئی۔ پارٹی کی جموں وکشمیر یونٹ کے کور گروپ نے جمعہ کی شام مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہائش گاہ پر ان حلقوں پر پالیسی بنانے کے لئے میٹنگ کی، جہاں پارٹی خود کو مضبوط کرسکتی ہے۔ میٹنگ چار گھنٹے تک چلی۔

      آزاد کا کانگریس چھوڑنا نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لئے بری خبر؟

      بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ کانگریس جموں حلقے میں اپنے ووٹ بینک کو کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’کانگریس کے کمزور ہونے سے بی جے پی کو جہاں بھی جگہ ملے گی، فائدہ ہوگا۔ مقابلہ آزاد کی نئی پارٹی، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے درمیان ہوگا۔ یہ سبھی اپنے مخصوص ووٹ کی بنیاد کو ہدف بنائیں گے۔ ہمارے پاس کانگریس کے رائے دہندگان کو لبھانے کا موقع ہوگا، جو پی ڈی پی یا دیگر علاقائی جماعتوں کو کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ غلام نبی آزاد، فاروق عبداللہ کی پارٹی کے متبادل کے طور پر ابھر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں کی شبیہ نرم قوم پرست کی ہے۔ ساتھ ہی، فاروق عبداللہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) جانچ کا سامنا کر رہے ہیں اور یہاں ایک افواہ ہے کہ دہلی میں ہمارے ساتھ ان کی کچھ سیٹنگ ہے۔ انہیں اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں فاروق عبداللہ کے ساتھ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، ایک اور وجہ ہے۔ مرکز کے قریب مانے جانے والی پارٹی یا وزیر اعظم کو کچھ علاقوں میں فائدہ ملتا ہے‘۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: