உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: غیر بی جے پی سیاسی جماعتیں کیوں کر رہی ہیں حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت: جانئے سیاسی ایکسپرٹ کی رائے

    جموں وکشمیر کی غیر بی جے پی سیاسی جماعتیں کیوں کر رہی ہیں حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت؟

    جموں وکشمیر کی غیر بی جے پی سیاسی جماعتیں کیوں کر رہی ہیں حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت؟

    حد بندی کمیشن کی جانب سے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو جموں وکشمیر کی اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی نئی حد بندی کے تعلق سے جاری سفارشات کی یوٹی کی تقریباً تمام غیر بی جے پی جماعتوں نے مخالفت کی ہے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس، جموں وکشمیر اپنی پارٹی اور پیپلز کانفرنس کے سربراہان نے ان سفارشات کو بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی ایک مشق قرار دیا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: حد بندی کمیشن کی جانب سے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو جموں وکشمیر کی اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی نئی حد بندی کے تعلق سے جاری سفارشات کی یوٹی کی تقریباً تمام غیر بی جے پی جماعتوں نے مخالفت کی ہے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس، جموں وکشمیر اپنی پارٹی اور پیپلز کانفرنس کے سربراہان نے ان سفارشات کو بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی ایک مشق قرار دیا۔ حالانکہ ان سفارشات کو مرکزی کابینہ کی منظوری ملنا ابھی باقی ہے تاہم ان جماعتوں کی جانب سے حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں بھانپ رہی ہیں کہ مستقبل میں ان کے لئے سیاسی مقابلہ پہلے جیسا آسان نہیں رہے گا۔

    سیاسی ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ حد بندی کمیشن کی سفارشات منظر عام پر آنے کے بعد غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آنا متوقع تھا۔ سرکردہ سیاسی ایکسپرٹ محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ این سی، پی ڈی پی اور کانگریس سمیت کچھ دیگر سیاسی جماعتیں یہ بھانپ چکی ہیں کہ اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی ازسرنو حد بندی سے بی جے پی کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں فائدہ ہوسکتا ہے۔

    نیوز 18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سعید ملک نے کہا،"دفعہ تین سو ستہر کی منسوخی کے بعد نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پاس لوگوں کے سامنے رکھنے کے لئے کوئی بھی سیاسی مدعا بچا نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان پارٹیوں کے لیڈران فکر مند ہوچکے ہیں۔ اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی دوبارہ ازسر نو حد بندی سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو جموں خطے کے ساتھ ساتھ کشمیر ڈویژن میں بھی سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔ حالانکہ ابھی ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ بی جے پی کشمیر خطے میں زیادہ سیٹیں پر اسمبلی انتخابات میں جیت سکتی ہے، لیکن اگر یہ پارٹی کشمیر میں چند سیٹوں پر بھی جیت درج کرپاتی ہے اور باقی اسمبلی حلقوں میں خاصی تعداد میں ووٹ حاصل کرتی ہے، اس سے وہ وادی میں اپنی موجودگی دکھا سکتی ہے، جو میرے خیال میں پارٹی کے اعلی لیڈران کے لیے باعث اطمینان ہوگا۔"

    انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی اور جموں کے کچھ علاقوں میں این سی، پی ڈی پی اور کانگریس بہتر پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جس کا ثبوت بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی کے انتخابات میں دیکھنے کو ملا، لیکن بی جے پی کی جانب سے کشمیر میں ضلع اور تحصیل سطح پر اپنی اکائیاں قائم کئے جانے سے ان جماعتوں کے لئے ایک نیا چلینج پیدا ہوگیا ہے، یہ پوچھے جانے پرکہ کیا موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر پی اے جی ڈی میں شامل جماعتیں اور کانگریس انتخابات سے پہلے اتحاد کرکے مل کر انتخابات لڑ سکتے ہیں، محمد سعید ملک نے کہا، "نینشل کانفرنس اور پی ڈی پی کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں سے ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ انہیں جموں وکشمیر میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے اتحاد کرنا چاہئے، تاہم مجھے ایسا نہیں لگتا کہ یہ جماعتیں بشمول کانگریس آنے والے اسمبلی  انتخابات  ایک ساتھ لڑنے کے لئے اتحاد کرسکتی ہیں کیونکہ ان کے سیاسی ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اگر چہ کئی مدعوں پر بظاہر متحد دکھائی دے رہی ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ دونوں جماعتیں سیاسی میدان میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہی ہیں، لہٰذا زمینی سطح پر موجود ان پارٹیوں کے کارکنان اتحاد میں شامل دوسری پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں"۔

    جموں وکشمیر کے ایک سینئر صحافی سہیل کاظمی کا کہنا ہے کہ غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کی جانب سے حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت کرنا ان کی سیاسی مجبوری ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سہیل کاظمی نے کہا، "جن سیاسی جماعتوں نے ماضی میں اسمبلی حلقوں کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا تھا وہ ان سفارشات کی ضرور مخالفت کریں گے۔ حالانکہ جمہوریت نے انہیں یہ حق دیا ہے کہ وہ ایک زمہ دار سیاسی پارٹی کے طور پر اپنا موقف سامنے رکھیں، لیکن ایک صحافی ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ حد بندی کمیشن نے جموں وکشمیر کے تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رپورٹ کے ذریعہ مذہبی، علاقائی اور سماجی ناانصافی کو دور کیا ہے۔ تاکہ جموں وکشمیر کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان کے سیاسی حقوق مل پائیں۔"

    واضح رہے کہ حد بندی کمیشن کی سفارشات کے مطابق جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی کل تعداد 90 ہوگئی ہیں، جن میں سے 47 کشمیر ڈویژن جبکہ 43 جموں ڈویژن میں ہوں گی۔ کمیشن کی حتمی رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ان اسمبلی حلقوں میں سے 9 اسمبلی نشستیں درجہ فہرست ذاتوں اور قبائل کے لئے مخصوص رہیں گی۔ کمیشن نے کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے دو اور پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کے پناہ گزینوں کے لئے اسمبلی میں نامزد کئے جانے کے بھی سفارش کی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: