ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

COVID-19 in Jammu and Kashmir:سری نگر کو کیوں قراردیاگیاریڈزون؟ کیا ہیں وجوہات

اعداد و شمار کے مطابق وادی میں کُل 1,09,160 کووڈ مثبت معاملات میں سے 44522 یعنی 41فیصد سرینگر ضلع میں ہی پائے گئے اور باقی دس اضلاع میں کُل کووڈ معاملات 49 فیصد پائے گئے ہیں۔ ایکٹیو پازیٹیومعاملات میں بھی سرینگر ہی سر فہرست ہے۔ ایک مئی تک وادی کشمیر میں جو کُل 19,171 ایکٹیو مثبت معاملے درج کئے گئے ہیں

  • Share this:
COVID-19 in Jammu and Kashmir:سری نگر کو کیوں قراردیاگیاریڈزون؟ کیا ہیں وجوہات
کشمیر میں کورونا کا قہر

کشمیر وادی میں سرینگر ضلع سب سے زیادہ کووڈ کے نشانےپر ہے۔ 01 مئی تک کے اعداد و شمار کے مطابق وادی میں کُل 1,09,160 کووڈ مثبت معاملات میں سے 44522 یعنی 41فیصد سرینگر ضلع میں ہی پائے گئے اور باقی دس اضلاع میں کُل کووڈ معاملات 49 فیصد پائے گئے ہیں۔ ایکٹیو پازیٹیومعاملات میں بھی سرینگر ہی سر فہرست ہے۔ ایک مئی تک وادی کشمیر میں جو کُل 19,171 ایکٹیو مثبت معاملے درج کئے گئے ہیں اُن میں سے 8872 یعنی 46 فیصد سے زائد کاتعلق بھی سرینگر ضلع سے ہی ہے۔کُل کووڈ تعداد میں وہ مسافربھی شامل ہے جو ائر پورٹ پر کووڈ پازیٹیو پائے گئےہیں اُن کی تعداد 4675 ہے۔اموات کی بات کی جائے تو اس میں بھی سب سے زیادہ اموات سرینگر ضلع میں ہئ واقع ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ کہ سری نگر کو ریڈزون قرار دیاجاچکاہے۔



کووڈ 19 کی وجہ سے کشمیر کے دس اضلاع میں ابھی تک کُل1411 اموات ہوئی ہیں اور ان میں سے 546 یعنی 39 فیصد اموات سرینگر ضلع میں ہی واقع ہوئی ہیں۔کووڈ کی دوسری لہر میں سرینگر ضلع کچھ زیادہ ہی کووڈ کے نشانےپرہے۔ اس مہینے پوری کشمیر وادی میں 153 اموات ہوئیں اور ان میں سے 74 یعنی 48 فیصد اموات اکیلے سرینگر ضلع میں واقع ہوئی ہیں۔ایک طرف سرینگر ضلع کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔تو دوسری طرف ٹیکہ کاری میں پیچھے۔1 مئی 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں صرف 28.25 فیصدافراد کی ٹیکہ کاری ہوئی ہے جن کی عمر 45 سال سے زیادہ ہے۔ ٹیکہ کاری میں سُست رفتاری کو لیکر ماہرین فکر مند ہیں۔


گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے سربراہ پروفیسر محمد سلیم خان کا کہنا ہے کہ ٹیکےہی عوام کو کووڈ 19 کے سخت اثرات سے محفوظ رکھ سکتےہیں اور اس عمل میں سُستی کی بھاری قیمت چُکانی پڑ سکتی ہے۔ٹیکے لگوانے کے عمل میں پہلے لوگوں نے سُستی دکھائی لیکن اب جبکہ کل سے 18 سال سے 45 سال کی عمر کےلوگوں کے لئے ٹیکے لگوانے کا عمل شروع ہوگیا تو لوگ ویکسین کے لئے قطاریں لگوا رہے ہیں لیکن اب کئی مقامات سے ٹیکے میسر نہ ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 03, 2021 12:27 AM IST