உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: بڈگام میں تیندوے کا خوف، لوگوں میں خوف وہراس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں

    جموں وکشمیر: بڈگام میں تیندوے کا خوف، لوگوں میں خوف وہراس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں

    جموں وکشمیر: بڈگام میں تیندوے کا خوف، لوگوں میں خوف وہراس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف حرکت میں

    جموں وکشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں تیندوے کا ڈر مسلسل جاری ہے۔ لوگوں میں خوف وہراس کے بعدمحکمہ وائلڈ لائف حرکت میں آگیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بڈگام: ضلع بڈگام میں تیندوؤں کے کھلے عام گھومنے پھرنے سے لوگ مسلسل خوف و ہراس میں ہیں اور شام ڈھلتے ہی اپنے مکانوں میں دروازوں اور کھڑکیوں کو بند کرکے چھپ جاتے ہیں۔ تیندوے اب گھروں کے صحنوں میں بھی نمودار ہورہے ہیں، جس کے باعث لوگ اب دن میں بھی گھروں سے باہر نکلنے خاص کر بچوں کو باہر بھیجنے سے احتراز کر رہے ہیں۔ ضلع صدر مقام بڈگام سے محض ایک کلو میٹر دوری پر واقع  کری پورہ علاقے میں گذشتہ کئی دنوں سے شام ڈھلنے کے ساتھ  ہی کئی جسیم تیندوے نمودار ہو رہے ہیں، جس سے بستی کے لوگوں میں کافی خوف وہراس کا ماحول ہے۔

    گرچہ محکمہ وائلڈ لائف نے تیندؤں کو پکڑنے کے لئے کئی مقامات پر جال لگا دیئے ہیں، لیکن یہ سب کارروائیاں فی الوقت بے سود ہی ثابت ہو رہی ہیں۔ علاقے میں تیندؤں کے کھلے عام گھومنے پھرنے کا عالم یہ ہے کہ ایک تیندوا گزشتہ کئی روز ہر شام اشتیاق حیسن میر نامی ایک مقامی کے گھر کے صحن میں داخل ہوجاتا ہے، جس سے افراد خانہ میں خوف و دہشت طاری ہے اور اب وہ نقل مکانی کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ نیوز 18 اردو کے نمائندہ نے جب  افراد خانہ خاص گھر کے بچوں سے بات کی تو ان کی آنکھوں میں دہشت اور باتوں سے خوف وہراس صاف ظاہر ہو رہا تھا۔

    ضلع بڈگام میں تیندوؤں کے کھلے عام گھومنے پھرنے سے لوگ مسلسل خوف و ہراس میں ہیں اور شام ڈھلتے ہی اپنے مکانوں میں دروازوں اور کھڑکیوں کو بند کرکے چھپ جاتے ہیں۔
    ضلع بڈگام میں تیندوؤں کے کھلے عام گھومنے پھرنے سے لوگ مسلسل خوف و ہراس میں ہیں اور شام ڈھلتے ہی اپنے مکانوں میں دروازوں اور کھڑکیوں کو بند کرکے چھپ جاتے ہیں۔


    محکمہ وائلڈ لائف نے تیندوؤں کو پکڑنے کے لئے کئی مقامات پر جال لگادیئے ہیں اور بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاہم گھنی بستی اور جھاڑیوں میں ایسے خونخوار جانور کو زندہ پکڑنا، انتہائی جوکھم بھرا کام ہے، جس میں عملے کے رکن کو جان گنوانے کا ہر آن خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اسی مقام سے محض دوکلو میٹر اوم پورہ کالونی میں چند ماہ قبل ایک تیندوے نے ادا یاسر میر نامی ایک چار سالہ بچی کو اپنا نوالہ بنایا تھا۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمہ اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر ان تیندوؤں کو جلد سے جلد پکڑے تاکہ علاقے کی کوئی دوسری ادا جیسی ننھی جان کا زیاں نہ ہو۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: