உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا اسمبلی انتخابات سے قبل جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال ہو جائے گا: جانئے سیاسی ماہرین کی رائے

     سیاسی پارٹیاں جموں و کشمیر UT سیاسی پارٹیاں کے طول و عرض میں عوامی جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی وکالت کرتی ہے کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر کو بحال کیا جانا چاہئے لیکن اس نے اس کی بحالی کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔

    سیاسی پارٹیاں جموں و کشمیر UT سیاسی پارٹیاں کے طول و عرض میں عوامی جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی وکالت کرتی ہے کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر کو بحال کیا جانا چاہئے لیکن اس نے اس کی بحالی کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔

    سیاسی پارٹیاں جموں و کشمیر UT سیاسی پارٹیاں کے طول و عرض میں عوامی جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی وکالت کرتی ہے کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر کو بحال کیا جانا چاہئے لیکن اس نے اس کی بحالی کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے کی خبریں ان دنوں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی ہیں۔ حالانکہ منگل کے روز مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ سرکار نے جموں و کشمیر میں حد بندی کا کام مکمل کیا ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی کا کام شرو ع کیا ہے لہذ ا اب یہ چنائو کمیشن کی زمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ کب لیتا ہے ۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں مطالبہ کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال ہونے کے بعد انتخابات کرائے جائیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ہند انتخابات کرانے سے پہلے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرے گی۔ اگرچہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا ہے، تاہم کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی اپ گریڈیشن وغیرہ کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انتخابات جلد کرائے جاسکتے ہیں ۔

    سیاسی پارٹیاں جموں و کشمیر UT سیاسی پارٹیاں کے طول و عرض میں عوامی جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی وکالت کرتی ہے کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر کو بحال کیا جانا چاہئے لیکن اس نے اس کی بحالی کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب غیر بی جے پی پارٹیاں مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ جموں و کشمیر میں انتخابات سے قبل ریاست کا درجہ بحال کیا جائے۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انتخابات سے قبل ریاست کی بحالی سے ووٹروں کی جمہوری عمل میں بڑی تعداد میں شرکت ممکن ہو سکے گی۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنا چاہئیے جس میں انہون نے پانچ اگست دو ہزار اُنیس کو دفعہ تین سو ستھر کے خا تمےکے وقت یہ کہا تھا کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ موزون وقت پر بحال کیا جائے گا ۔

    پارٹی کے ترجمان اعلی رویندر شرما نے نیوز ایٹین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کانگریس پارٹی کی ہی مانگ نہیں ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام جلد از جلد ریاست کا درجہ بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ : یہ صرف کانگریس پارٹی ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے بچے بچے کی مانگ ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ فوری طور پر بحال کیا جائے جسکے بارے میں پارلیمنٹ میں وعدہ کیا گیا تھا لیکن تین سال گزر جانے کے باوجود بھی اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ چنائو تو ہونے ہی ہیں لیکن اسکے بارے میں بھی وقت کا تعین نہیں کیا جارہا ہے ۔لیکن ہماری مانگ ہے کہ سٹیٹ ہوڈ کو فوری طور بحال کیا جائے اور یہاں جلد سے جلد چنائو کرائے جائیں تاکہ یہاں جمہوریت بحال ہو : نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر رتن لعل گُپتا کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کا یہ مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ پہلے بحال کیا جائے اور اسکے بعد چنائو کرائے جائیں۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا : ہماری پارٹی کا یہ موقف ہے کہ انتخابات منعقد کروانے سے پہلے جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے ۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے جب جموں و کشمیر کے اپوزیشن لیڈروں کو دلی بلایا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ جلد بحال کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ موزون وقت پر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا اور کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اسبارے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا : سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت ہندوستان جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کی خواہاں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کے درجے کی بحالی ممکن نظر نہیں آتی۔ معروف صحافی سُہیل کاظمی نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں اقتدار میں آنے کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کا درجہ دینا چاہتی ہے۔

    ٹریکنگ کے دوران پھنسابنگلہ دیشی جوڑا، گلمرگ کیبل کار کارپوریشن کی ٹیم نے ایسے بچایا

    Kashmir: انٹرنیشنل تائیکانڈو چیمپئن شپ میں ملک کی نمائندگی کریں گے کشمیر کے بلال احمد

     

    نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سُہیل کاظمی نے کہا، الیکشن کمیشن آف انڈیا جب حرکت میں آتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ اور ایسا ہی آجکل جموں و کشمیر میں بھی دیکھا جارہا ہے کیونکہ تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابات میں شرکت کرنی ہوتی ہے لہذا وہ مختلف سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔
    جموں و کشمیر میں گزشتہ چار برس سے جمہوری حکومت موجود نہٰیں ہے لہذا یہاں کی سیاسی پارٹیاں زہادہ ہی بیتاب دھکھائی دے رہی ہیں۔ جہاں تک جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کا تعلق ہے مُجھے نہیں لگتا بی جے پی اسمبلی انتخابات سے پہلے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرے گی۔ یہ انہی کے دور حکومت میں چلا گیا ہے لہذا انکی یہ کوشش ہوگی کہ وہ جموں و کشمیر میں سرکار بنانے کے بعد از خود لوگوں کو ریاست کا درجہ تحفے کے طور پر پیش کرے گی : اب جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی انتخابات کے سلسلے میں کئی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں اور پارلیمنٹ کا اجلاس بھی جاری ہے ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا پارلیمنٹ کے موجود سیشن میں اجموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دئیے جانے کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوگی یا نہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: