உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: موسم میں نمایاں بہتری، سری نگر-جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک بحال

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سری نگر۔جموں قومی شاہراہ پیر کے روز ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے کھول دی گئی ہے تاہم پہلے درماندہ گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت ہے۔

    • Share this:
      وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی صد فیصد صحیح ثابت ہوتے ہوئے پیر کے روز جہاں موسم خشک رہا اور لوگوں کو دن میں بسا اوقات آفتاب کا دیدار بھی نصیب ہوا وہیں رات بھر مطلع صاف رہنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں مزید اضافے سے لوگ صبح کے وقت دیر گئے تک گھروں سے باہر قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکے۔ وادی کے جنوب وشمالی میں واقع مشہور سیاحتی مقامات پہلگام اور گلمرگ میں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 10 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے وادی میں 20 اور 21 دسمبر کو کہیں کہیں مقامات پر ہلکی بارشوں اور برف باری کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم محکمے کے مطابق اگلے ایک ہفتے تک موسم مجموعی طور پر خشک اور خوشگوار رہے گا۔
      ادھر سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آٹھ دنوں کی معطلی کے بعد گزشتہ دو دنوں سے فضائی ٹریفک بحال ہے جبکہ وادی کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر۔جموں قومی شاہراہ پیر کے روز تین دن بعد ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے کھل گئی نیز کپوارہ-کیرن روڑ بھی ٹریفک کی آمد ورفت کےلئے دوبارہ کھل گیا تاہم لیہہ۔ سری نگرشاہراہ اورتاریخی مغل روڑکےعلاوہ گریز، مژھل اورکرناہ کی سڑکیں بھی مسلسل بند ہیں۔

      فائل فوٹو
      فائل فوٹو


      ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ سری نگر۔جموں قومی شاہراہ پیر کے روز ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے کھول دی گئی ہے تاہم پہلے درماندہ گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت ہے۔وادی میں پیر کے روز صبح سے ہی آفتاب نے مطلع پر چھائے بادلوں کی اوٹ سے کئی بار باہر نکلنے کی کامیاب کوشش کی جس کے نتیجے میں لوگوں کو دن میں بسا اوقات آفتاب کا دیدار نصیب ہوا اور لوگوں کو پارکوں، دکان کے تھڑوں وغیرہ پر دھوپ کی نحیف گرمی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
      تاہم مطلع رات بھر صاف رہنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ درج ہوا جس کے باعث لوگوں نے صبح کے وقت دیر گئے تک گھروں سے باہر نکلنے میں احتراز ہی کیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جو لوگ جن میں بیشتر تعداد طلبا کی تھی، صبح کے وقت بھی سسب مجبوری گھروں سے نکلے تھے انہوں نے مفلروں اور گرم ٹوپوں اور گرم ملبوسات سے پورے بدن کو اس طرح ڈھانپ لیا تھاکہ کوئی کسی کو تب تک پہچاننے سے قاصرتھاجب تک نہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاکرعلیک سلیک کرتے تھے۔

      فائل فوٹو
      فائل فوٹو


      یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں امسال قبل از وقت ہی بھاری برف باری کے ساتھ ساتھ سردیوں نے بھی وقت چلہ کلان کی آمد سے پہلے ہی چلہ کلان سے بھی زیاد تیز وتند تیور دکھائے جس نے لوگوں کے جینے کو دوبھر کردیا۔وادی میں سردی کی شدت میں مزید اضافے کے ساتھ ہی گلمرگ سے لے کر سری نگر تک منفی درجہ حرارت کا راج ایک بار پھر قائم رہا۔سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ وادی کے مشہور دہر سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں بھی کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
      سرحدی ضلع کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ، قاضی گنڈ میں منفی 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کوکرناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔لداخ کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 27.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
      First published: