உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی قوانین کے لاگو ہونے سے جموں و کشیر میں مساوی نظام ہوا قائم، جانئے کیا کیا آئی تبدیلیاں

    مرکزی قوانین کے لاگو ہونے سے جموں و کشیر میں مساوی نظام ہوا قائم، جانئے کیا کیا آئی تبدیلیاں

    مرکزی قوانین کے لاگو ہونے سے جموں و کشیر میں مساوی نظام ہوا قائم، جانئے کیا کیا آئی تبدیلیاں

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن منسوخ ہونے کے بعد نئے آٹھ سو نوے مرکزی قوانین یہاں لاگو ہوئے اور 129 قوانین میں ترمیم کی گئی۔ اس کی بدولت جموں و کشمیر یو ٹی میں ہر طبقے کے لئے مساوی انصاف کا نظام قائم ہوا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
      رمیش امباردار

      جموں و کشمیر : پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرکے اسے ملک کی دیگر ریاستوں یا مرکزی زیر انتظام والے علاقوں کے ہمہ پلہ بنانے کے بعد وہ تمام مرکزی قوانین یہاں لاگو ہوئے جو دفعہ تین سو ستر کے ہوتے ہوئے یہاں لاگو نہیں کئے جاسکتے تھے اور اس وجہ سے اس علاقہ کے لوگ مختلف فلاحی و دیگر اسکیمیوں سے محروم رہ رہے تھے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن منسوخ ہونے کے بعد نئے آٹھ سو نوے مرکزی قوانین یہاں لاگو ہوئے اور 129  قوانین میں ترمیم کی گئی۔ اس کی بدولت جموں و کشمیر یو ٹی میں ہر طبقے کے لئے مساوی انصاف کا نظام قائم ہوا۔ لاگو ہوئے نئے قوانین میں درج فہرست قبائل اور دیگر ایسے طبقوں، جو جنگلاتی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، کے لئے کئی فلاحی قوانین کا اطلاق بھی جموں و کشمیر میں ہوا جس سے ان طبقوں کی ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر: بجبہاڑہ علاقہ میں 24 گھنٹوں میں دو انکاونٹرز، مزید دو دہشت گرد ہلاک


      ان قوانین کے تحت قبائیلی طبقے کے لوگوں کو زمینکے حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ اور ان طبقوں کے لوگوں کی حالت زندگی کو بہتر بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں  نئے قوانین کے اطلاق کی بدولت روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں اور اب تک ہزاروں بے روزگار افراد روزگار پاچکے ہیں۔ یو ٹی انتظامیہ نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقوں کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے ان کی آمدنی کی حد چار لاکھ پچاس روپے سے  بڑھاکر آٹھ لاکھ روپے کی ہے ۔ اس طرح کے اقدام سے  ان طبقوں کے نوجوان ریزرویشن کا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، بچوں اور بزرگ شہریوں کے حقوق  یقینی بن پائے ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے: آزاد اور ان کی سیاسی پارٹی جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامہ پر کتنا ہوسکتی ہے اثر انداز؟


      نئے مرکزی قوانین کے جموں و کشمیر میں لاگو ہونے سے پوری یوٹی میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے اور یہاں کے عوام کو وہ تمام حقوق حاصل ہوئے ہیں جو ملک کی دیگر ریاستوں کے لوگوں کو پہلے ہی میسر تھے۔ دفعہ تین سو ستر کے ہوتے ہوئے بہت سی ایسی مرکزی اسکیمیں تھیں جو جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتی تھیں جس وجہ سے یہاں کے لوگ پیچھے رہے تھے۔  نئے قوانین کے اطلاق سے جموں و کشمیر میں پنچایتی راج اداروں میں نئی جان آگئی اور دیہی علاقوں کے عوام خود مختار بن رہے ہیں۔ وہ اپنے نمائندوں کی وساطت سے اپنے اپنے علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پورا کر پار ہے ہیں۔

      عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کشمیری عوام مرکزی سرکار کے اس اقدام سے کافی خوش نظر آرہے ہیں کیونکہ وہ دفعہ تین سو ستر کے ہٹائے جانے کے بعد زمینی سطح پر ترقیانی عمل کے حوالے سے ایک مثبت تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: