ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں موسم سرما شروع ہوتے ہی لوگ سردی سے بچنے کے لئے کانگڑیوں کا کرتے ہیں استعمال

کشمیر میں ٹیکنالوجی کے نئے الیکٹرانک آلات اورگیس ہیٹر آنے کے باوجود بھی کانگڑی کےاستعمال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس صنعت سے وابستہ کاریگروں کا کہناہے کہ جب سے وہ اس کاروبارکےساتھ منسلک ہیں انہیں کسی طرح کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ اچھاخاصا اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔

  • Share this:
کشمیر میں موسم سرما شروع ہوتے ہی لوگ سردی سے بچنے کے لئے کانگڑیوں کا کرتے ہیں استعمال
کشمیر میں موسم سرما شروع ہوتے ہی لوگ سردی سے بچنے کے لئے کانگڑیوں کا کرتے ہیں استعمال

وادی کشمیرمیں موسم سرما شروع ہوتے ہی لوگ سردی سے بچنےکےلئے کانگڑیوں کااستعمال کرتے ہیں۔کشمیر میں کانگڑی بنانےوالے مشہورعلاقوں میں وسطی ضلع بڈگام نارہ بل کامحلہ سندرآبادبھی قابل ذکرہے۔ اس علاقے میں بیشترلوگ مختلف ڈیزائنوں کےساتھ کانگڑی کے علاوہ دیگراقسام کی اشیاءبناتےہیں۔کشمیر میں قدیم دورسے ہی دست کاری کے ہرمیدان میں کاریگروں نے  اپنالوہامنوایا۔یہاں لوگ اپنی کھیتوں میں ہی بیدکی چھڑیاں نکلنے کے درخت بھی اگاتےہیں۔


ٹیکنالوجی کےبڑھتے رجحان کےباوجود بھی کشمیرمیں دست کارمختلف قسم کی کاریگری ،فن کاری میں اپنی الگ پہچان قائم کئے ہوئےہیں ۔آج بھی نوجوانوں سے لیکر عمررسیدہ لوگوں کازورگاراسی  دست کاری پرمنحصرہے ۔کانگڑی بنانےکےلئے پہلےکمہارایک بڑاساپیالہ نمابرتن تیارکرتاہے ۔اس کےبعدبیدکی مختلف قسم کی پتلی چھڑیاں لائی جاتی ہیں۔ اس کے بعدان چھڑیوں کو چھیلنےکے بعدگرم پانی میں ابالاجاتاہےتاکہ یہ آسانی سےمڑوڑی جاسکیں اور اس کےبعدانہیں خشک کر کے کانگڑی اوردیگراشیاءبننے کاعمل شروع کیاجاتاہے۔


کانگڑی صدیوں سے کشمیریوں کوسردی کی شدت سے بچاتاچلا آرہاہے۔ اس کانگڑی کوشخص جہاں چاہےاسےاپنےساتھ لیکر جاتےہیں۔ کانگڑیوں کےاستعمال میں کوئلہ بنیادی شے ہےاور اسے تپاکر گرمی حاصل کی جاتی ہے۔کانگڑی اور فیرن لازم وملزوم شئے ہیں۔ اسی فیرن کےنیچےکانگڑی کااستعمال کیاجاتاہے۔


کانگڑی بنانا ایک محنت طلب کام ہے۔ اس کےلئےپہلےبیدکی لکڑی کو پہلے  بھگونے،خشک کرنے اور رنگنےکاکام کیاجاتاہے۔ اس کےبعدتیار ہوچکی بید کی ان تیلیوں سےکانگڑی اور دیگرمختلف ڈیزائن کی اشیاءبنائی جاتی ہیں۔ کانگڑی اور دیگر اشیاء بنانے والےدستکاروں کا کہناہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دورمیں بید کی چھڑیاں کاٹنےکے لئے کٹرمشین متعارف ہونی چاہے۔ جوروزگارمیں اضافےکاباعث بن سکتی ہے۔ فدا محمدنامی دستکار نے نیوز18اردوکو بتایاکہ ہر چیزکے لئے مشینری بنائی گئی لیکن صرف کانگڑی بنانے اور بیدکی لکڑی کاٹنےکے لئےکوئی مشین تیارنہیں کی گئی۔

کشمیر میں ٹیکنالوجی کے نئے الیکٹرانک آلات اورگیس ہیٹر آنے کے باوجود بھی کانگڑی کےاستعمال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس صنعت سے وابستہ کاریگروں کا کہناہے کہ جب سے وہ اس کاروبارکےساتھ منسلک ہیں انہیں کسی طرح کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ اچھاخاصا اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صنعت کےفروغ کےلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھائے جائیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 23, 2020 09:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading