ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: کورونا معاملات میں کمی آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے سے لوگ پُرامید

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں محض 1,128 سیاح ہی وادی وارد ہوئے تھے، تاہم حالات میں بہتری آنے کے ساتھ ہی اس تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: کورونا معاملات میں کمی آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے سے لوگ پُرامید
کورونا معاملات میں کمی آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے سے لوگ پُرامید

جموں کشمیر: جموں کشمیر اور ملک کے زیادہ ترحصوں میں کورونا مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی کشمیر وادی میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے لگی ہیں۔ محکمہ سیاحت کے مطابق مئی مہینے میں وادی کی سیر پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کافی گراوٹ درج کی گئی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں محض 1,128 سیاح ہی وادی وارد ہوئے تھے، تاہم حالات میں بہتری آنے کے ساتھ ہی اس تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔


ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر، ڈاکٹر جی این ایتو نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی جون ماہ میں کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ جون ماہ کے دوران 15,254 سیاحوں نے وادی کشمیر کے مختلف صحت افزا مقامات کی سیرکی، جن میں 78 غیر ملکی سیاح شامل تھے۔ انہوں نے بتایا چونکہ ابھی بیرون ممالک سے آنے والے سیاحوں کی آمد شروع نہیں ہوئی ہے، تاہم ملک میں پہلے سے ہی موجود غیر ملکی سیاحوں میں سے چند سیاح کشمیر کی سیر پر بھی آئے۔ ڈاکٹر جی این ایتو کے مطابق رواں ماہ کے دوران ہر دن لگ بھگ 2,000 سیاح کشمیر کی سیر کے لئے پہنچ رہے ہیں اور یوں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 10 ہزار سے زاید سیاح وارد کشمیر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں بتدریج اضافے سے یہ امید روشن ہوئی ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک وادی کا رخ کرنے والے سیاحوں کی تعداد میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔


رواں سال مارچ کے مہینے میں اب تک سب سے زیادہ یعنی 48,162 سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی جبکہ اپریل ماہ میں یہ تعداد 32,594 تھی۔ ڈاکٹر ایتو نے بتایا کہ کشمیر کی سیر کرنے والے زیادہ تر سیاحوں کا تعلق بنگال اور مہاراشٹر ریاستوں سے ہے۔ جبکہ دہلی، تلنگانہ اور چند دیگر ریاستوں سے بھی سیاح وادی کی سیر پر آنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر ایتو کے مطابق پہلگام، سونہ مرگ اور گلمرگ میں قائم ہوٹلوں میں تقریباً 80 فیصد بکنگ ہے جبکہ سری نگر کے ہوٹلوں میں بکنگ کی شرح 60 سے 70 فی صد کے درمیان ہے۔


رواں سال مارچ کے مہینے میں اب تک سب سے زیادہ یعنی 48,162 سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی جبکہ اپریل ماہ میں یہ تعداد 32,594 تھی۔
رواں سال مارچ کے مہینے میں اب تک سب سے زیادہ یعنی 48,162 سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی جبکہ اپریل ماہ میں یہ تعداد 32,594 تھی۔


کورونا وبا کی تیسری لہر کے خدشے کے مدنظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ڈایریکٹر کے مطابق وادی آنے والے تمام سیاحوں سے ان کی سری نگر کی آمد پر آر ٹی پی سی آر کی منفی رپورٹ حاصل کی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی انہیں سیر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاحوں  آر ٹی پی سی آر کی منفی رپورٹ پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں، انہیں ہوائی اڈے پر ریپیڈ انٹیجن ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور رپورٹ منفی آنے کے بعد ہی انہیں سری نگر شہر اور دیگر صحت افزا مقام کی طرف جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

وادی کے صحت افزا مقامات پر سماجی دوری اور دیگر رہنما خطوط کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ایتو نے کہا کہ ہر سیاح کےلئے فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس حکم کی عدولی کے مرتکب سیاحوں پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لئے ٹورسٹ پولیس اور پھول بانی محکمہ کے اہلکار ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ مستقبل میں سیاحوں کو وادی کی جانب راغب کرنے کے لئے محکمہ سیاحت آنے والے ایام میں گریز، کوکرناگ اور بنگس وادی میں سیاحتی میلے منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جی این ایتو کے مطابق محکمہ سیاحت وبینار منعقد کرکے سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔

محکمہ سیاحت سے وابستہ افراد کی وادی میں سیاحوں کی تعداد میں بتدریج اضافے سے پُرامید ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کووڈ صورتحال میں مزید بہتری آنے کے ساتھ ہی وادی آنے والے سیاحوں کی تعداد بڑھ جائے گی تاکہ گزشتہ چند برسوں سے سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کو ہوئے نقصانات کی کسی حد تک بھرپائی ہو سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 14, 2021 09:59 PM IST