உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر کی خواتین مشروم کی کاشت کرنے میں دکھا رہی ہیں دلچسپی، ضلع کولگام میں خواتین کو با اختیار بنانے پر زور

    وادی کشمیر کی خواتین مشروم کی کاشت کرنے میں دکھا رہی ہیں دلچسپی، ضلع کولگام میں خواتین کو با اختیار بنانے پر زور

    وادی کشمیر کی خواتین مشروم کی کاشت کرنے میں دکھا رہی ہیں دلچسپی، ضلع کولگام میں خواتین کو با اختیار بنانے پر زور

    Jammu and Kashmir : وادی کشمیر زرعی سرگرمیوں کے لیے کافی مشہور ہے اور ایسے میں یہاں کی خواتین سرکاری اسکیموں کے ذریعے مشروم کی کاشت میں کافی دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Kulgam | Srinagar
    • Share this:
    کولگام: وادی کشمیر زرعی سرگرمیوں کے لیے کافی مشہور ہے اور ایسے میں یہاں کی خواتین سرکاری اسکیموں کے ذریعے مشروم کی کاشت میں کافی دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت کا محکمہ زراعت ضلع کولگام میں خواتین کو با اختیار بنانے اور سرکاری اسکیموں کو زمینی سطح پر عملانے کی کوششوں میں جُھٹ گیا ہے ۔ ضلع کولگام میں محکمہ زراعت نے کئی مشروم یونٹ قایم کیے ہیں، جہاں نہ صرف مشروم کی کاشت گھر بیھٹے ایک کمرے میں کی جارہی ہے بلکہ پیداوار اور روزگار کے وسائل میں بھی کافی اضافہ ہو رہا ہے ۔

    اس کاشتکاری میں خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں جبکہ نوجوان مرد بھی شانہ بشانہ اسکا حصہ بنے ہیں اور اسکیموں کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ سمیرہ اعجاز اور محمد شفیع نجار جیسے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں نے مشروم یونٹ قایم کرکے مثال قایم کی ہے۔

    چیف ایگریکلچر افسر کولگام سرتاج احمد کے مطابق محکمہ زراعت کولگام ایسے کئی یونٹ قایم کر رہا ہے جہاں خواتین کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ انہیں نہ صرف با اختیار بنایا جاے بلکہ ایسی اسکیموں کے زریعے انکی معاشی حالت میں بہتری آے اور روزگار کے مزید وسایل پیدا ہوں۔

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر : تختی پر لکھنے کی روایت کو اس سرکاری اسکول کے تین اساتذہ رکھتے ہوئے قائم


    یہ بھی پڑھئے: سرینگر میں اپنی پارٹی کا اجلاس، الطاف بخاری نے ریاستی درجہ بحال کرنے پر دیا زور 



    محکمہ کے مطابق ضلع میں مشروم کی پیداوار میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔سرکار ترجیحی بنیادوں پر نہ صرف عام نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا کررہی ہے بلکہ بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی موقعہ فراہم کررہی ہے ، بس ایک قدم بڑھانے کی ضرورت ہے.
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: