ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

عالمی یوم ماحولیات: شہرہ آفاق ڈل جھیل پر ناجائز تعمیرات کا کستا شکنجہ

کشمیر کی ڈل جھیل پر پچھلے ایک سال سے سناٹا پسرا ہوا ہے۔ اگست 2019 میں جب کشمیر سے سیاح باہر کر دیئے گئے، تب سے دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار اس جھیل کی لہروں سے شاید ہی کسی سیاح نے کھیلا ہوا یا اس کی پرکیف فضاؤں سے لطف اندوز ہوا ہو۔

  • Share this:
عالمی یوم ماحولیات: شہرہ آفاق ڈل جھیل پر ناجائز تعمیرات کا کستا شکنجہ
عالمی یوم ماحولیات: شہرہ آفاق ڈل جھیل پر ناجائز تعمیرات کا کستا شکنجہ

سری نگر: کشمیر کی ڈل جھیل پر پچھلے ایک سال سے سناٹا پسرا ہوا ہے۔ اگست 2019 میں جب کشمیر سے سیاح باہر کر دیئے گئے، تب سے دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار اس جھیل کی لہروں سے شاید ہی کسی سیاح نے کھیلا ہوا یا اس کی پرکیف فضاؤں سے لطف اندوز ہوا ہو۔ اس سال یہاں سیاحت سے جڑے لوگوں کو امید تھی کہ سیاح آئیں گے تو ایک بار پھر یہاں رونق چھا جائے گی، لیکن کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون نے ان امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ بہر حال آج بات نہ تو سیاحوں کی کرنی ہے اور نہ ہی سیاحت سے جڑے لوگوں کی زبوں حالی کی۔ آج جھیل کی صحت کا معاملہ زیر بحث ہے جو کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے بعد بھی بقول شاعر "کچھ نہ دوا نے کام کیا " والا معاملہ ہے۔

ڈل جھیل تو ویسے کئی مسائل سے دوچار ہے اور تحفظاتی پروجیکٹ جھیل کا بھلا نہیں کرپائے ہیں، لیکن لاک ڈاون کے دوران جہاں دنیا بھر میں قدرتی وسائل میں انسانی مداخلت کم ہونے کی وجہ سے ان کی تجدید ہورہی ہے۔ وہیں ڈل جھیل کے ساتھ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ لالچی لوگ لاک ڈاون کی آڑ میں جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کا شکنجہ کستے جارہے ہیں۔


ڈل جھیل تو ویسے کئی مسائل سے دوچار ہے اور تحفظاتی پروجیکٹ جھیل کا بھلا نہیں کرپائے ہیں۔
ڈل جھیل تو ویسے کئی مسائل سے دوچار ہے اور تحفظاتی پروجیکٹ جھیل کا بھلا نہیں کرپائے ہیں۔


جھیل کی دیکھ ریکھ پر معمور لیکس اینڈ واٹر ویز اتھارٹی کے چیئرمین طفیل متو کہتے ہیں کہ جھیل کے کناروں پر جس احاطے میں تعمیرات غیرقانونی قرار دی گئی ہیں، لاک ڈاون کے دوران ان علاقوں میں کئی لوگوں نے جلد بازی تعمیرات کھڑی کردیں۔ طفیل متو کہتے ہیں کہ کووڈ-19 کے خطرات کے باوجود انھیں انہدامی اسکواڈ کو کام پر لگانا پڑا۔ اتھارٹی سے ملے اعداد و شمار کے مطابق لاک ڈاون کے بعد 22 بڑی انہدامی کاروائیوں کے دوران انھوں نے 58 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا، جن میں دو منزلہ مکانات بھی شامل تھے۔ اس دوران 90 افراد کے خلاف پولیس کیس درج کئے گئے۔ اس کے علاوہ 5 ایسی گاڑیوں کو ضبط کیا گیا جو تعمیرات کے لئے مواد ان علاقوں میں لارہی تھیں۔

اتھارٹی سے ملے اعداد و شمار کے مطابق لاک ڈاون کے بعد 22 بڑی انہدامی کاروائیوں کے دوران انھوں نے 58 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا، جن میں دو منزلہ مکانات بھی شامل تھے۔
اتھارٹی سے ملے اعداد و شمار کے مطابق لاک ڈاون کے بعد 22 بڑی انہدامی کاروائیوں کے دوران انھوں نے 58 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا، جن میں دو منزلہ مکانات بھی شامل تھے۔


حد تو یہ ہے کہ انہدامی کارروائیوں کے دوران اتھارٹی کے انہدامی اسکواڈ پر کچھ لوگوں نے پتھراو بھی کیا اور انھیں زخمی کردیا۔ ایک زمانے میں 21 مربع کلومیٹر پر پھیلی ڈل جھیل میٹھے پانی کی جھیل ہے، جو پانی پر بنے ہاوس بوٹوں کے لئے بھی مشہور ہے۔ جھیل کے اندر کئی لوگ آباد ہیں جنہیں منتقل کرنے کے منصوبے تو ہیں، لیکن خراب منصوبہ سازی کے چلتے یہ عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کشمیر کے مطابق سری نگر شہر کی اکثر ڈرنیں ڈل جھیل میں بہتی ہیں اور کئی منصوبوں کے باوجود اس پر روک نہیں لگائی جاسکی ۔ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ اس گندے پانی کو صاف کرنے کے لئے کچھ پلانٹ تو لگائے گئے ہیں، لیکن ان کی ٹیکنالوجی بھی وقت گزرنے کے ساتھ فرسودہ ہوگئی ہیے۔ سال 2002 سے ڈل جھیل کے تحفظ سے متعلق کام پر ہائی کورٹ کی نظر ہے، لیکن اس کے باوجود تحفظ کے سارے پروجیکٹ کچھ زیادہ کارگر ثابت نہ ہوسکے۔
First published: Jun 06, 2020 06:54 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading