உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    World Environment Day: جموں وکشمیر میں کیمیائی کھادوں کے استعمال سے زرعی زمین کو ہورہا کافی نقصان

    World Environment Day: جموں وکشمیر میں کیمیائی کھادوں کے استعمال سے زرعی زمین کو ہورہا کافی نقصان

    World Environment Day: جموں وکشمیر میں کیمیائی کھادوں کے استعمال سے زرعی زمین کو ہورہا کافی نقصان

    Jammu and Kashmir : سابق صدر بندیل کھنڈ یونیورسٹی یوپی ڈاکٹر پروفیسر سندیپ آریا نے بتایا کہ آج کیمیائی کھادوں کے استعمال سے ہورہے نقصانات کافی بڑھ گئے ہیں، اس لئے ضرورت ہے کہ اس خطرناک صورتحال سے نمٹا جائے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : ماحولیاتی تباہی کے مختلف اسباب  ہیں۔ ہماری زمینوں کو تباہ کرنے میں  سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اپنی زمینوں میں کیمیکل فرٹیلائزر یعنی کیمائی کھادوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ زمین میں سب سے بڑی خطرناک صورتحال پیدا کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ زمین میں مختلف فصلوں میں کیمیکل کھادوں کے استعمال کرنے کے بعد یہ زہریلے ادویات فوڈ چین کے ذریعے ہمارے جسم تک پہنچ جاتے ہیں ، جو بہت ساری خطرناک بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے۔ بعض ماہرین یا محقیقین بتاتے ہیں کہ ان کیمیکل ادویات یاکھادوں کے استعمال سے انسان کینسر جیسی مہلک بیماری کے شکار بھی ہوتے ہیں۔ ان کمیکل کھادوں کے استعمال سے زمین اور پانی میں موجود پرندے، جانور اورکیڑے موت کے شکار ہوجاتے ہیں ، جس کا اثر گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا گیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ٹارگٹ کلنگ کیلئے ہائبریڈ دشت گردوں کو استمال میں لایا جارہا ہے: انٹلی جنس ذرائع


    سابق صدر بندیل کھنڈ یونیورسٹی یوپی ڈاکٹر پروفیسر سندیپ آریا نے بتایا کہ آج کیمیائی کھادوں کے استعمال سے ہورہے نقصانات کافی بڑھ گئے ہیں، اس لئے ضرورت ہے کہ اس خطرناک صورتحال سے نمٹا جائے ۔ ماحولیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ کیمیکل کھادوں کے متبادل میں بائیو فرٹیلائزر استعمال میں لایا جاسکتا ہے، جس سے ماحول کافی حد بچایا جاسکتا ہے۔ گھروں کے اندر سے جو آر گنک ویسٹ اور گوبر وغیرہ جو نکلتا ہے، اسے سائنسی طریقہ کار سے آر گنک مینر میں تبدیل کرکے اپنے کھیتوں اور باغات میں کیمیکل کھادوں کے متبادل استعمال کرسکتے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیر میں لگاتار ٹارگٹ کلنگ سے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا خواب پھر چکنا چور


    ماہرین کہتے ہیں کہ اس اقدام سے ماحولیاتی توازن بگڑنے سے بچا جاسکتا ہے۔ ہیلتھ کئیر انو یشن سنٹر پونے کے ماہر ڈاکٹر کفایت حسین نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ ان کیمیائی کھادوں کے متبادل میں بائیو فرٹیلائزر استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہمیں زمین بچانی ہے تو ہمیں زیرو ویسٹ کے طریقے کے تحت اقدامات اٹھانے ہیں، جس میں ایک سسٹم کا ویسٹ دوسرے سسٹم میں تبدیل کرکے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    خاص بات یہ ہے کہ دنیا میں پہلی جگہ ہندوستانی ریاست سکم ہے جہاں کیمیائی کھادوں کا استعمال نہیں ہوتا۔ یہاں رضاکارانہ طور پر لوگوں نے قدم اٹھایا اور سکم آرگنک مقام بن گئی۔ جس سے یہاں کی سیاحت اور ایکو ٹورزم کو بھی فروغ ملا۔ سوال یہ ہے جب سکم میں لوگ یہ قدم اٹھا پائے اور اپنے ماحول کو صاف رکھا  تو جموں وکشمیر میں بھی لوگ ایسے اقدامات کیوں نہیں اٹھا سکتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں وکشمیر میں بھی کیمیائی کھادوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے اور رضاکارانہ طور پرلوگوں کو آگے آنا چاہئے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: