ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

یاسر ریشی کشمیر کے ٹیلنٹ کا نیا نمونہ، ہوش اڑانے والا کرتب باز دنیا کے معروف اسٹنٹ مین میں اپنا نام کرنا چاہتا ہے شامل

یاسر کا خواب ہے کہ ان کا شمار دنیا کے بہترین کرتب بازوں میں ہو۔ لیکن ان کو اس بات کا ملال ہے کہ ان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور خوابوں کو ایک اڑان بخشنے کے لئے انہیں کوئی مناسب پلیٹ فارم مہیا نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یاسر جیسے کشمیری نوجوان کا ہنر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔

  • Share this:
یاسر ریشی کشمیر کے ٹیلنٹ کا نیا نمونہ، ہوش اڑانے والا کرتب باز دنیا کے معروف اسٹنٹ مین میں اپنا نام کرنا چاہتا ہے شامل
یاسر ریشی کشمیر کے ٹیلنٹ کا نیا نمونہ، دنیا کے معروف اسٹنٹ مین میں اپنا نام کرنا چاہتا ہے شامل

اننت ناگ۔ کشمیر میں باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم اگر کمی ہے تو وہ ہے مناسب پلیٹ فارم کی جہاں یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ ویری ناگ اننت ناگ کے یاسر ریشی ایک ایسے نوجوان ہیں جو منفرد اور حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے اہل ہیں۔ یاسر ایک ایتھلیٹ ہونے کے ساتھ ایک ریئل اسٹیٹ میں بھی ہیں۔


جنوبی کشمیر کے ایک دور دراز علاقے ڈورو ویری ناگ کے یاسر ریشی کسی بالی ووڈ یا ہالی ووڈ فلم کے سین کے اسٹنٹ مین نہیں ہیں اور نہ ہی ابھی تک انہوں نے کسی فلم میں اسٹنٹ کیا ہے۔ تاہم یاسر بالی ووڈ فلموں سے ضرور متاثر ہو کر آج ایک کامیاب اسٹنٹ مین بن گئے ہہں۔ یاسر رئیل لائف سے ہٹ کر ریئل لائف کے کرتب باز ہیں جو کبھی ویری ناگ کی گہرایوں میں سما جاتے ہیں اور کبھی ہواؤں کو چیر کر کرتب کرتے ہیں۔ یاسر اونچاییوں کو ماپ کر زمین پر حیرت انگیز اسٹنٹ کرتے ہیں۔ یاسر کے مطابق، بالی ووڈ فلموں سے متاثر ہو کر وہ بچپن سے ہی کرتب بازی کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ جبکہ ہر مشکل کا سامنا کر کے وہ آج ایک بہترین ایتھلیٹ بھی ثابت ہوئے ہیں۔


یاسر کا خواب ہے کہ ان کا شمار دنیا کے بہترین کرتب بازوں میں ہو۔ لیکن ان کو اس بات کا ملال ہے کہ ان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور خوابوں کو ایک اڑان بخشنے کے لئے انہیں کوئی مناسب پلیٹ فارم مہیا نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یاسر جیسے کشمیری نوجوان کا ہنر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔


یاسر کے مطابق، کشمیری نوجوانوں میں خداداد صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن منشیات کے تئیں نوجوانوں کا بڑھتا رحجان بھی ان کے لئے ایک سنگین مسلہ ہے۔ یاسر نے منشیات کے خلاف کئی اتھلیٹک پروگراموں میں حصہ بھی لیا ہے۔ جہاں انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یاسر ریشی کا تعلق جنوبی کشمیر کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے جہاں پر اب بھی نوجوانوں کو بنیادی سہولیات کا فقدان رہتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی یاسر اپنی کامیابی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ کبھی نا کبھی وہ اپنی منزل کو تلاش کرکے جموں کشمیر کو ایک نئی پہچان دلانے میں کامیاب ہوں گے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 21, 2020 08:19 AM IST