ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونابحران:لوگوں کےلیےفرشتہ بن گیااننت ناگ کایہ نوجوان، ایسےکررہاہے سب کی مدد

پیشے سے دکاندار سجاد نے جب کورونا کی دوسری لہر میں کووڈ مریضوں کو مصائب سے الجھتا دیکھا تو انکے اندر چھپا ہوا جذبہ انسانیت جاگ اٹھا اور انہوں نے ایک دم اپنے آپ کو ان مصیبت کے مارے لوگوں کےلئے وقف کیا۔

  • Share this:
کورونابحران:لوگوں کےلیےفرشتہ بن گیااننت ناگ کایہ نوجوان، ایسےکررہاہے سب کی مدد
پیشے سے دکاندار سجاد نے جب کورونا کی دوسری لہر میں کووڈ مریضوں کو مصائب سے الجھتا دیکھا تو انکے اندر چھپا ہوا جذبہ انسانیت جاگ اٹھا اور انہوں نے ایک دم اپنے آپ کو ان مصیبت کے مارے لوگوں کےلئے وقف کیا۔

کورونا کے دوران کچھ لوگ بنا اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دوسروں تک امداد اور راحت رسانی کے کام میں جٹ گئے ہیں۔ اننت ناگ کے سجاد احمد شاہ نامی شخص اسکی ایک تازہ مثال ہے۔جس نے کووڈ مریضوں کےلئے اپنی نجی گاڑی وقف کر دی۔ گزشتہ برس سے کووڈ نے انسانی تقدیر کچھ اسطرح سے بدل ڈالی کہ سماجی دوریوں کے نام پر آپسی رشتے بھی مجبوریوں اور لاچارگی کی نظر ہو گئے۔ جبکہ بعض اوقات انسان بے یارو مددگار ہو جاتا ہے۔ تاہم ایسے دور میں بھی کچھ افراد اپنے آپ کو دوسروں کےلئے وقف کر رہے ہیں۔ اننت ناگ کے سجاد احمد ایسے ہی افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی نجی گاڑی کو ایمبولینس میں تبدیل کیا بلکہ بذات خود کووڈ وبا میں مبتلا افراد کی مدد کےلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔


دراصل پیشے سے دکاندار سجاد نے جب کورونا کی دوسری لہر میں کووڈ مریضوں کو مصائب سے الجھتا دیکھا تو انکے اندر چھپا ہوا جزبہ انسانیت جاگ اٹھا اور انہوں نے ایک دم اپنے آپ کو ان مصیبت کے مارے لوگوں کےلئے وقف کیا۔ سجاد کے مطابق کھنہ بل پہلگام روڈ پر کووڈ مریض کو لے جا رہی ایک گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا۔ جسکے بعد اسکے ساتھی ایندھن تلاش کر رہے تھے اور مریض کی حالت بتدریج ابتر ہورہی تھی۔


لوگوں کو مشکلات میں دیکھ کر سجاد نے اپنی نجی گاڑی نکالی اور مریض کو بروقت استال پہنچا کر اسکی جان بچائی۔ سجاد کے مطابق اسی دن سے اس نے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنے کا عزم کیا اور اپنی گاڑی کو ایمبولینس میں تبدیل کر کے بنا کسی کرائے کے کووڈ مریضوں کو اسپتال پہنچا رہا ہے۔ اسطرح سے سجاد نے اب تک سینکڑوں مریضوں کی جان بچا کر انسانیت کا فرض ادا کیا ہے۔ سجاد کے مطابق نہ صرف مریضوں بلکہ کووڈ سے متاثرہ افراد کی موت ہونے کے بعد انکی آخری رسومات ادا کرنے کےلئے بھی وہ لگاتار لاشوں کو آبائی علاقوں میں پہنچا کر انکی آخری رسومات انجام دینے میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔


 لوگوں کومشکلات میں دیکھ کر سجاد نے اپنی نجی گاڑی نکالی اور مریض کو بروقت اسپتال پہنچا کر اسکی جان بچائی۔
لوگوں کومشکلات میں دیکھ کر سجاد نے اپنی نجی گاڑی نکالی اور مریض کو بروقت اسپتال پہنچا کر اسکی جان بچائی۔


سجاد کے اس جذبے کو دیکھ انکے ساتھ کچھ اور لوگ بھی جڑ گئے ہیں۔ سجاد 24گھنٹے کسی بھی ایمرجنسی کال پر گھر سے نکلتے ہیں اور لوگوں کو اسپتال پہنچاتے ہیں- جبکہ اس دوران انہیں کئی مرتبہ شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سجاد کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران بعض اوقات انہیں ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے انکے حوصلے پست ہو جاتے ہیں لیکن کورونا کے موجودہ حالات کو دیکھ کر پھر سے حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور اسطرح سے کورونا میں وہ پھر اپنے فرائض انجام دینے کےلئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کئی اور افراد سجاد کے اس مشن میں جڑ گئے اور اکثر اوقات لوگوں کی مدد کے لیے سجاد کے ساتھ سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ عاقب نامی ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ جب انکا ایک رشتہ دار کووڈ میں مبتلا ہو گیا تو اس وقت اسکے سگھے بھی پرائے بن گئے تھے۔ لیکن سجاد کی بروقت مدد سے اسکے رشتہ دار کی جان بچائی گئی اور آج وہ مکمل صحتیاب ہو گیا ہے۔عاقب کے مطابق اس جذبے کو دیکھ کر اس نے سجاد کے اس مشن سے جڑنے کا فیصلہ لیا ہے اور وہ بھی اب کووڈ مریضوں کی مدد کےلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

سجاد نے ابھی تک کووڈ میں مبتلا سینکڑوں افراد کی مدد کرکے انہیں بروقت اسپتال پہنچا کر انکی جانیں بچائ ہیں۔ جبکہ لوگوں کا ماننا ہے کہ آجکے مشکل دور میں باہمی امداد اور جزبہ انسانیت کی اہم ضرورت ہے۔ جسے اس دور کا خاتمہ ممکن بن سکے۔ جبکہ کورونا کے دور میں پورے ملک پر خوف طاری ہو گیا ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی کئ بار انسانیت کو زندہ رکھنے والی مثالیں دیکھنے کو ملی ۔ نیوز 18 اُردو ایسے جانباز کووڈ ہیروز کو سلام پیش کرتا ہے۔ امید ہے کہ ایسے ہیروز کی خدمات رائگاں نہیں جایئں گی۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 04, 2021 09:10 AM IST