ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر کے نوجوان فوٹو گرافی کے فن کی جانب  راغب ہو رہے ہیں

وادی کشمیر میں نوجوان نسل خوب فوٹو گرافی کے فن کی جانب راغب ہو رہی ہے ۔بہت سے نوجوان اس فن میں اپنا مظاہرہ کررہے ہیں ۔کشمیر کے بہت سے پیشہ ور ماہر نوجوان فوٹو جرنلسٹ کے بطورکام کر رہے ہیں۔

  • Share this:
وادی کشمیر کے نوجوان فوٹو گرافی کے فن کی جانب  راغب ہو رہے ہیں
وادی کشمیر کے نوجوان فوٹو گرافی کے فن کی جانب  راغب ہو رہے ہیں

سری نگر۔ ورلڈ فوٹو گرافی ڈے ہرسال 19اگست کو منایاجاتا ہےجس کامقصد فوٹوگرافی کے فن کو آگے بڑھانا اور دنیاکے دلفریب اورحسین مناظر ،دیگرحالات و واقعات کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ فوٹوگرافی پیشہ نہیں بلکہ ایک آرٹ ہے۔ یہ آرٹ فن مصوری سے شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ کیمرےکی شکل اختیارکر گیا۔جب کیمرہ ایجاد ہوا تو تصویر کھینچنا قدرے آسان ہو گیا۔ ڈیجیٹل کیمروں کی ایجاد نے پورامنظر ہی تبدیل کردیا۔ اب ہروہ نوجوان جو موبائل رکھتا ہے، فوٹوگرافر ہے۔ مگر ایک ماہر فوٹوگرافر اور عام کیمرہ استعمال کرنے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔


وادی کشمیر میں نوجوان نسل خوب فوٹو گرافی کے فن کی جانب راغب ہو رہی ہے ۔بہت سے نوجوان اس فن میں اپنا مظاہرہ  کررہے ہیں ۔کشمیر کے بہت سے پیشہ ور ماہر نوجوان فوٹو جرنلسٹ کے بطورکام کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر کی عام زندگی سے لیکر قدرتی خوبصورتی تک بلکہ یہاں کے نامساعد حالات کی عکس بندی کرتے ہیں۔ سجاد حمید نامی ایک فوٹو جرنلسٹ نے نیوز 18اردو کو بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے وادی کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کی عکس بندی کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ کشمیر کے نامساعد حالات کو بھی وہ اپنے کیمرے میں قید کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر میں روز نامساعد حالات کو کیمرے میں قید کرنے میں انہیں دشوار گزار مراحل سے گزرناپڑتا ہے۔


کشمیر کے بہت سے پیشہ ور ماہر نوجوان فوٹو جرنلسٹ کے بطورکام کر رہے ہیں۔


اشفاق مجید نامی فوٹو جرنلسٹ نے بھی نیوز18اردو کو بتایا کہ وہ صبح ہاتھ میں کیمرہ لئے ہوئے گھر سے ایک اچھے فوٹو کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔فوٹو گرافر کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے۔تاہم ہر کوئی فوٹوگرافی کے فن سے واقف نہیں ہوتا ہے ۔پہلے دور میں لوگ اپنی شادیوں اور دوسری اہم تقاریب کی فوٹو گرافی کرنے کے لئے پروفیشنل فوٹو گرافرز کاسہارا لیتے تھے ۔تاہم آج ان تقاریب کی عکس بندی بھی  لوگ ازخود اپنے کیمروں اور موبائل فون سے کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ماہر فوٹو گرافرز کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

سجاد حسین کوچھے نامی ایک فوٹوگرافر نے نیوز18اردو کو بتایا کہ آج سے پندرہ برس پہلے انہیں شادیوں میں بلایا جاتا تھا لیکن موبائل اور دوسرے اشیاء کے آنے سے انہیں اب کوئی نہیں پوچھتا جس کی وجہ سے ان کا پیشہ اور روزگار تباہ ہوکر رہ گیا۔ سیاحتی مقام  گلمرگ کی قدرتی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے نہ صرف دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں بلکہ یہاں کی حسین وادیوں کی عکس بندی بھی کرتے ہیں۔ کشمیر میں بھی بیشتر لوگ فوٹو گرافی کا شوق رکھتے ہیں۔ فوٹو گرافی پیشہ بھی ہے اور شوق بھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوٹو گرافی جیسے  آرٹ کو جموں وکشمیر میں ترجیح دیتے ہوئے روزگار کے بہتر وسائل  فراہم کئے جائیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 20, 2020 02:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading