معشوقہ کو گھر میں بند رکھتے تھے گھر والے ، عاشق نے اٹھایا ایسا گھنونا قدم ، جان کر سبھی کے اڑ گئے ہوش

اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ، جہاں ایک عاشق نے اپنی معشوقہ اور اس کی ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

Oct 09, 2019 04:38 PM IST | Updated on: Oct 09, 2019 04:38 PM IST
معشوقہ کو گھر میں بند رکھتے تھے گھر والے ، عاشق نے اٹھایا ایسا گھنونا قدم ، جان کر سبھی کے اڑ گئے ہوش

علامتی تصویر

اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ، جہاں ایک عاشق نے اپنی معشوقہ اور اس کی ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس واقعہ سے پورے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے ۔ اطلاع ملنے کے بعد جائے واردات پر پہنچے پولیس اہلکاروں نے لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا ہے ۔ ساتھ ہی معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ عشق کی یہ کہانی ویڈیو کالنگ سے شروع ہوئی تھی ، جس کا انجام موت سے ہوا۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ ضلع کے میہناج پورتھانہ حلقہ کے ڈھاکھا گاوں میں پیش آیا ہے ۔ گاوں کا رہنے والا نیشان گلف میں نوکری کرتا ہے ۔ اس کی بیوی نورین اپنی بیٹی غزالہ اور چار دیگر بچوں کے ساتھ گھر پر رہتی تھی ۔ ایک سال پہلے نیشان نے گاوں کے ہی شبھم وشو کرما کو فون کیا اور کہا کہ میرے گھر جاکر بیوی سے ویڈیو کالنگ پر بات کرادو ۔ اس کے بعد شبھم اس کے گھر آنے جانے لگا اور اسی دوران غزالہ سے محبت ہوگئی ۔ پھر دونوں گاوں کے باہر نہر کی پلیا پر ملنے لگے ۔ کچھ دنوں بعد لڑکی کسی اور سے بات کرنے لگی تو شبھم نے اس کی مخالفت کی ۔

Loading...

प्रेमिका को कमरे में बंद रखते थे घरवाले, प्रेमी ने कर दी मां-बेटी की हत्या

بعد ازاں غزالہ نے اس سے ملنے سے انکار کردیا ۔ اسی دوران یہ بات اس کی ماں کو پتہ چل گئی ، جس کے بعد نورین نے بیٹی پر نگرانی بڑھادی ۔ رات میں وہ بیٹی کو تالے میں بند کرکے خود دروازے پر سو جاتی تھی ۔ واردات والی رات شبھم غزالہ سے ملنے کیلئے ہی اس کے گھر گیا تھا ، لیکن وہ تالوں میں بند تھی اور اس کی ماں دروازے پر سوئی ہوئی تھی ۔ شبھم نے جب نورین سے غزالہ سے ملنے کی ضد کی تو اس نے گاوں والوں کو بتانے اور اپنے بھائیوں سے کہہ کر پٹائی کروانے کی دھمکی دی ۔ نورین نے جب شور مچانے کی کوشش کی تو شبھم نے نورین کا منہ دبا دیا ، جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہوگئی ۔

اس کے بعد شبھم نے نورین کو کندھے پر اٹھایا اور نزدیک کے دھان کے کھیت میں لے جاکر گلا دبا کر قتل کردیا ۔ پھر وہ اس کے گھر لوٹا اور نورین کے تکیہ کے نیچے سے چابھی نکالی اور تالا کھول کر غزالہ کو باہر نکالا ۔ اس کے بعد جب غزالہ نے پوچھا کہ میری والدہ کہاں ہیں تو شبھم نے کہا کہ دوسرے کمرے میں سو رہی ہے ۔ پھر وہ اس کو 500 میٹر کی دوری پر واقع غازی پور کے سادات تھانہ حلقہ کے ملہور اسکول کے پاس لے گیا ۔ اس کو وہیں چھوڑ کر وہ اپنے دوست ٹونی عرف امت یادو اور آشیس کے ساتھ گھر آگیا ۔ پھر واپس لوٹنے پر اس نے اپنے دوستوں سے غزالہ کا تعارف کروایا ۔ غزالہ نے پھر اپنی ماں کے بارے میں پوچھا تو شبھم نے بتایا کہ غلطی سے ان کا قتل ہوگیا ہے ، یہ سنتے ہی اس کے دونوں دوست وہاں سے فرار ہوگئے ۔ راز فاش ہونے کی ڈر کی وجہ سے اس نے غزالہ کو بھی پانی میں ڈبو کر مار دیا ۔

Loading...