உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    30  فیصدی Tax کے بعد اب Cryptocurrency پر دینا پڑ سکتا ہے 28 فیصدی GST بھی: جانیں کیوں؟

     دراصل یہ چرچا اس لیے شروع ہوئی ہے کہ کیونکہ حکومت نے کریپٹو کرنسی کو گھڑ دوڑ اور لاٹری کے زمرے میں رکھا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال پرائیویٹ لاٹریوں (Lottery)اور گھڑ دوڑ (Horse Racing) پر 28 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑتا ہے۔

    دراصل یہ چرچا اس لیے شروع ہوئی ہے کہ کیونکہ حکومت نے کریپٹو کرنسی کو گھڑ دوڑ اور لاٹری کے زمرے میں رکھا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال پرائیویٹ لاٹریوں (Lottery)اور گھڑ دوڑ (Horse Racing) پر 28 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑتا ہے۔

    دراصل یہ چرچا اس لیے شروع ہوئی ہے کہ کیونکہ حکومت نے کریپٹو کرنسی کو گھڑ دوڑ اور لاٹری کے زمرے میں رکھا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال پرائیویٹ لاٹریوں (Lottery)اور گھڑ دوڑ (Horse Racing) پر 28 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت نے بجٹ (Budget 2022) میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس (Tax on Cryptocurrency) کا اعلان کیا ہے۔ اب اس کے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (Goods and Services Tax - GST) کے دائرے میں آنے کی چرچا بھی شروع ہو گئی ہے۔ دراصل یہ چرچا اس لیے شروع ہوئی ہے کہ کیونکہ حکومت نے کریپٹو کرنسی کو گھڑ دوڑ اور لاٹری کے زمرے میں رکھا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال پرائیویٹ لاٹریوں (Lottery)اور گھڑ دوڑ (Horse Racing) پر 28 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے حکومت کرپٹو کرنسی پر 28 فیصد جی ایس ٹی بھی وصول کر سکتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی طرف سے جی ایس ٹی کے حوالے سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں آئی ہے۔
      حکومت نے کرپٹو کو ایک اثاثہ سمجھتے ہوئے 30 فیصد انکم ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ کرپٹو کی تعریف ورچوئل ڈیجیٹل ایسیٹس (Virtual Digital Assets) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس میں نہ تو کرپٹو کو سکیورٹی (Security) مانا گیا ہے اور نہ ہی روپئے (Money) کی پہچان دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسے سکیورٹیز کا درجہ نہ دیا گیا تو کرپٹو کی خرید و فروخت پر بھی جی ایس ٹی عائد ہو جائے گی، اس میں کوئی شک نہیں۔
      یہ قانون جی ایس ٹی کا راستہ کھول رہے ہیں۔
      انکم ٹیکس ایکٹ 1961 (Income Tax Act 1961) کے تحت کسی بھی ذریعے سے موصول ہونے والی آمدنی، جس کا ذکر کرکے دائرے کے زمرے میں ننہیں کیا گیا ہے۔ وہیں کسی بھی سروس کی فراہمی پر کوئی خاص چھوٹ نہیں دی گئی ہے تو اس پر جی ایس ٹی لاگو ہوگا۔ چونکہ کرپٹو کرنسی کے لیے ایسی کوئی چھوٹ نہیں ہے تو یہ بھی جی ایس ٹی کے تحت آ سکتی ہے۔

      جی ایس ٹی کے سیکشن 2(75) کے مطابق پیسے کا مطلب ہے ہندوستانی قانونی کرنسی Indian legal Currency) یا فیما ایکٹ کے تحت آنے والی غیر ملکی کرنسی سے ہے۔ زیادہ تر ورچوئل کرنسیاں (Virtual Currency) اس دائرے میں نہیں آتیں۔ اس لیے انہیں پیسہ (Money) نہیں سمجھا جا سکتا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: