உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان۔برطانیہ فلائٹ کا ٹکٹ چار لاکھ تک پہنچا، ڈٰ جی سی اے نے طیارہ کمپنوں سے مانگا بیورا

    India-UK flights: گزشتہ سال 25 مئی سے گھریلو پروازوں پر کم اور اوپری کرایہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد بین الاقوامی پروازوں پر لاگو نہیں ہے۔.

    India-UK flights: گزشتہ سال 25 مئی سے گھریلو پروازوں پر کم اور اوپری کرایہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد بین الاقوامی پروازوں پر لاگو نہیں ہے۔.

    India-UK flights: گزشتہ سال 25 مئی سے گھریلو پروازوں پر کم اور اوپری کرایہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد بین الاقوامی پروازوں پر لاگو نہیں ہے۔.

    • Share this:
      نئی دہلی. ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے DGCA ) نے ایئر لائن کمپنیوں سے اگست کے دوران انڈیا برطانیہ (India-UK Flights) پروازوں کے کرایوں کی تفصیلات مانگی ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے یہ معلومات دی۔ سنیچر کو انٹر اسٹیٹ کونسل سیکرٹریٹ، وزارت داخلہ سکریٹری سنجیو گپتا نے ٹوئٹر پر شکایت کی تھی  کہ 26 اگست کو برطانوی ایئرویز کی دہلی-لندن پرواز کا اکنامی کلاس کرایہ 3.95 لاکھ روپے ہے۔

      انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے کالجوں میں داخلے کے وقت ، وستارا اور ایئر انڈیا کی برطانوی فلائٹ کا کرایہ بھی 1.2 لاکھ سے 2.3 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ سنجیو گپتا نے کہا کہ انہوں نے یہ معلومات سول ایوی ایشن سکریٹری پی ایس کھرولا کو دی ہیں۔

      ڈی جی سی اے کے ایک سینئر عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ ریگولیٹر نے فی الحال انڈیا برطانیہ پروازیں چلانے والی ایئر لائنز سے کہا ہے کہ وہ کرایوں کی تفصیلات فراہم کریں۔ گزشتہ سال 25 مئی سے گھریلو پروازوں پر کم اور اوپری کرایہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد بین الاقوامی پروازوں پر لاگو نہیں ہے۔

      دہلی-لندن کے علاوہ ممبئی-لندن روٹ پر پروازوں کو آپریٹ کر رہی وستارا نے کہا کہ کرایہ کی شرح ہمیشہ مانگ اور رسد پر منحصر ہوتی ہے۔ وستارا نے کہا کہ فی الحال ہندوستان۔برطانیہ روٹ پرسنیچر میں صرف 15 پروازوں کی اجازت ہے۔ جیسے ہی زیادہ گنجائش کی اجازت دی جائے گی کرایوں کی شرح خود بخود نیچے آجائے گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: