உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    DA میں اگلے سال بھی ہوگا اضافہ، جانیے کتنی ہوگا مہنگائی بھتہ میں اضافہ

    DA میں اگلے سال بھی ہوگا اضافہ، جانیے کتنی ہوگا مہنگائی بھتہ میں اضافہ

    DA میں اگلے سال بھی ہوگا اضافہ، جانیے کتنی ہوگا مہنگائی بھتہ میں اضافہ

    سال 2022 میں حکومت نے مرتبہ سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں 7 فیصدی کا اضافہ کیا ہے۔ جنوری میں مہنگائی بھتے کو 31 فیصدی سے بڑھا کر 34 فیصدی کیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      مرکزی ملازمین کی تنخواہ میں اگلے سال بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت آئندہ سال کے آغاز میں ہی ملازمین کے مہنگائی بھتہ (ڈی اے) میں اضافہ کرسکتی ہے۔ مہنگائی بھتے میں حکومت ہر سال دو مرتبہ اضافہ کرتی ہے۔ مرکزی ملازمین کو جولائی 2022 سے 38 فیصدی مہنگائی بھتہ مل رہا ہے۔ ڈی اے میں اضافہ آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعدادوشمار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ملازمین کو حکومت ڈی اے دیتی ہے، وہیں پنشنرس کو مہنگائی راحت (ڈی آر) دیا جاتا ہے۔

      مہنگائی بھتہ میں اب اگلی ترمیم جنوری 2023 میں ہوگی۔ جولائی سے ستمبر تک کے مہنگائی کے اعدادوشمار آچکے ہیں اور نومبر کے اواخر میں اکتوبر کے مہنگائی کی شرح کا بھی پتہ چل جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین کے ڈی اے میں اگلے سال حکومت 4 فیصدی اضافہ کرسکتی ہے۔ اس طرح مہنگائی بھتہ بڑھ کر 42 فیصدی ہوسکتا ہے۔ گزشتہ مہینے ریٹیل اور تھوک مہنگائی میں کمی دیکھی گئی۔ لیکن، گلوبل انفلیشن ابھی بھی کافی اوپر بنی ہوئی ہے۔ اس کا اثر ابھی بنا رہ سکتا ہے۔

      2 مرتبہ میں 7 فیصدی اضافہ
      سال 2022 میں حکومت نے مرتبہ سرکاری ملازمین کے ڈی اے میں 7 فیصدی کا اضافہ کیا ہے۔ جنوری میں مہنگائی بھتے کو 31 فیصدی سے بڑھا کر 34 فیصدی کیا تھا۔ اس طرح حکومت نے ڈی اے میں 3 فیصدی کا ضافہ کیا ہے۔ جولائی میں حکومت نے ڈی اے میں 4 فیصدی کا اضافہ کیا اور اسے 34 فیصدی سے بڑھا کر 38 فیصد کردیا۔ حکومت کے اس قدم سے 50 لاکھ مرکزی ملازمین اور 62 لاکھ پنشنرس کو فائدہ پہنچا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مہاراشٹر : جیو صارفین کے لیے خوشخبری ،پونے میںTrue-5Gکی خدمات کا آغاز

      یہ بھی پڑھیں:
      بجلی صارفین کے لیے اسکیم! حکومت نے دیا ون ٹائم سیٹلمنٹ کا آفر

      ملازمین کے لئے ہر چھ مہینے میں مہنگائی بھتے کا ریویژن ہوتا ہے، لیکن، 7ویں پے کمیشن کے تحت اس میں ایک شرط شامل کی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب ملازمین کا مہنگائی بھتہ 50 فیصد کو پار کرے گا تو اس کا انضمام ملازمین کی بیسک سیلری میں کردیا جائے گا۔ پچاس فیصدی ہونے پر مہنگائی بھتے کے طور پر ملازمین کو جو پیسہ مل رہا ہوگا، اسے بیسک سیلری میں جوڑ دیا جائے گا اور ریوائزڈ سیلری بھتے کے پیسے ہی ملیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: