உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیراسٹامول سمیت 800 دوائیں اپریل سے ہوجائیں گی مہنگی، 10 فیصد تک بڑھیں گی قیمت

    800 سے زائد دوائیوں کی قیمتوں میں ہوگا بے تحاشہ اضافہ۔

    800 سے زائد دوائیوں کی قیمتوں میں ہوگا بے تحاشہ اضافہ۔

    حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے مہنگائی کی شرح میں کمی کی بنیادی وجہ معدنی تیل، بنیادی دھاتوں، کیمیکلز اور کیمیکل مصنوعات، خام پیٹرولیم اور قدرتی گیس، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ضروری ادویات کی قومی فہرست (National List of Essential Medicines) کا مطلب ہے کہ ضروری ادویات کی فہرست میں آنے والی تقریباً 800 ادویات کی قیمتیں اپریل سے 10.7 فیصد بڑھنے والی ہیں۔ یہ ہول سیل پرائس انڈیکس (WPI) میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ہونے جا رہا ہے۔

      اب بخار، انفیکشن، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، جلد کے امراض اور خون کی کمی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اس میں پیراسٹامول، فینوباربیٹون، فنائیٹون سوڈیم، ایزیتھرومائسن، ، Ciprofloxacin Hydrochloride اور Metronidazole جیسی دوائیں شامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مہنگائی کادوہراجھٹکا!137دن بعدPetrol-Dieselکی قیمت80 پیسے لیٹر،رسوئی گیس LPGکے بھی بڑھےدام

      ہندوستان کی ضروری ادویات کی قومی فہرست میں آنے والی ادویات کا سالانہ اضافہ تھوک قیمت کے اشاریہ پر مبنی ہے۔ یہ ضروری ادویات خوردہ فروشی کے علاوہ حکومت اور سرکاری صحت کے اداروں کے صحت کے بہت سے پروگراموں میں استعمال ہوتی ہیں۔ یکم اپریل 2022 سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

      اس سے قبل 7 مارچ کو حکومت نے کہا تھا کہ پچھلے مہینے یعنی فروری میں تھوک مہنگائی کی شرح 13.11 فیصد رہی۔ اس طرح فروری 2022 میں مسلسل 11ویں مہینے تھوک مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں رہی۔ تھوک مہنگائی جنوری میں 12.96 فیصد اور دسمبر 2021 میں 13.56 فیصد رہی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      وقفے وقفے سے بڑھیں گے پٹرول وڈیزل کی قیمتیں،تیل کمپنیوں کوہوا3مہینوں میں19ہزار کروڑکانقصان

      جنوری میں تھوک مہنگائی کی شرح 12.96 فیصد رہی۔ اس سے پہلے دسمبر 2021 میں یہ 13.56 فیصد تھی۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے مہنگائی کی شرح میں کمی کی بنیادی وجہ معدنی تیل، بنیادی دھاتوں، کیمیکلز اور کیمیکل مصنوعات، خام پیٹرولیم اور قدرتی گیس، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: