ہوم » نیوز » معیشت

تو کیا 4 مئی سے چلنے لگے گی ٹرین! ریلوے وزارت بنا رہی ہے خصوصی منصوبہ، جانئے کیا ہوں گے نئے ضابطے؟

جس طرح سے کورونا کے معاملہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ٹرینوں کا آپریشن جب بھی شروع ہو گا وہ کورونا کے خوف کے سائے میں ہی ہو گا۔

  • Share this:
تو کیا 4 مئی سے چلنے لگے گی ٹرین! ریلوے وزارت بنا رہی ہے خصوصی منصوبہ، جانئے کیا ہوں گے نئے ضابطے؟
مائیگرینٹ مزدوروں کے لئے جاری کئے گئے شرمک ٹرینوں کے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر کے مطابق، اب ان ٹرینوں کے لئے ریاستوں کی رضا مندی والے پوائنٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔

نئی دہلی۔ انڈین ریلوے (Indian Railway) نے تین مئی تک اپنی ساری مسافر ٹرینیں (Passenger Trains) منسوخ کر دی ہیں۔ یہی نہیں اس نے تین مئی کے بعد کے ریلوے ریزرویشن کو بھی بند کر دیا ہے۔ اس کا سیدھا مقصد ریل مسافروں کو پیغام دینا ہے کہ چار مئی کو لے کر وہ کوئی اندازہ نہ لگائیں اور نہ ہی ریلوے اسٹیشنوں کی طرف جائیں۔ ریلوے لاک ڈاون (Railway Lockdown)  کے بعد جب بھی ٹرینیں چلائے گا تو وہ مرکز کی ہری جھنڈی کے بعد ہی چلائے گا۔ مرکز بھی اس مسئلہ پر سبھی ریاستوں سے بات چیت کے بعد ہی کوئی ہدایت جاری کرے گا۔ اس بیچ جس طرح سے کورونا کے معاملہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ٹرینوں کا آپریشن جب بھی شروع ہو گا وہ کورونا کے خوف کے سائے میں ہی ہو گا۔ اس لئے ریلوے میں بھی الگ الگ زون اور ڈویژن کے حکام کئی طرح کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔


ٹرین آپریشن شروع ہونے پر پہلے صرف کچھ چنندہ ٹرینیں چلائی جائیں۔ یہ اسپیشل ٹرینوں کی طرح ہوں اور اس کا کرایہ زیادہ رکھا جائے۔ اس سے شروع میں ٹرینوں میں بھیڑ کو کم رکھنے میں مدد ملے گی اور صرف وہی لوگ سفر کریں گے جن کے لئے یہ بیحد ضروری ہو۔


ریلوے نے 19 مارچ سے ہی دویانگوں، طلبہ اور طبی بنیاد پر ٹکٹوں پر ملنے والی رعایت کے علاوہ سبھی چھوٹ پر روک لگا رکھی ہے۔ اس کا مقصد ٹرینوں میں بھیڑ کو کم کرنا تھا۔ خاص کر سینئر شہریوں کو ٹرینوں کے سفر سے دور رکھنا تھا۔ امکان یہی ہے کہ فی الحال ریلوے اپنے اس حکم کو جاری رکھے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سفر کرنے سے دور رکھا جائے۔


علامتی تصویر

ریلوے شروع میں صرف سلیپر کلاس کے کوچ والی ٹرین چلائے۔ اس میں صرف انہی لوگوں کو سفر کرنے دیا جائے جن کے پاس کنفرم ٹکٹ ہو۔ اس سے جنرل کلاس کے ڈبے والی بھیڑ سے بچا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اے سی ڈبوں کے بند ماحول میں انفیکشن کے امکانات کو بھی سلیپر ٹرین سے ٹالا جا سکتا ہے۔
شروع میں صرف چنندہ اسٹیشنوں کے درمیان ہی ٹرین چلائی جائے اور جن علاقوں میں کورونا کے معاملے زیادہ آ رہے ہوں وہاں سے نہ تو کوئی آئے اور نہ ہی کوئی ٹرین جائے۔

ریلوے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے لاکھوں ملازمین اور مسافروں کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ اسے وزارت صحت اور وزارت داخلہ کی ہدایت کے مطابق سبھی طرح کے پروٹوکول کو بھی فالو کرنا ہے۔ ایسے میں مسافروں کے لئے ٹرین سروس جب بھی شروع ہو گی ریلوے کے اوپر ہر کسی کی حفاظت کی بڑی ذمہ داری ہو گی۔اس لئے وہ ٹرین آپریشن کے لئے کئی طرح کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔
First published: Apr 23, 2020 01:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading