உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Air India نے مسافروں کو دی بڑی راحت، سفر تاریخ بدلنے پر نہیں دینے ہوں گے پیسے

    ایئر انڈیا Air India نے ٹویٹ میں کہا، "کووڈ کیسز میں اضافے کی وجہ سے حالیہ غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایئر انڈیا تمام گھریلو ٹکٹوں (098) کے لیے تاریخ یا فلائٹ نمبر کی تبدیلی کے لیے 31.03.22 کو یا اس سے پہلے تصدیق شدہ سفر کے ساتھ 'ایک مفت تبدیلی' کی پیشکش کر رہا ہے۔

    ایئر انڈیا Air India نے ٹویٹ میں کہا، "کووڈ کیسز میں اضافے کی وجہ سے حالیہ غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایئر انڈیا تمام گھریلو ٹکٹوں (098) کے لیے تاریخ یا فلائٹ نمبر کی تبدیلی کے لیے 31.03.22 کو یا اس سے پہلے تصدیق شدہ سفر کے ساتھ 'ایک مفت تبدیلی' کی پیشکش کر رہا ہے۔

    ایئر انڈیا Air India نے ٹویٹ میں کہا، "کووڈ کیسز میں اضافے کی وجہ سے حالیہ غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایئر انڈیا تمام گھریلو ٹکٹوں (098) کے لیے تاریخ یا فلائٹ نمبر کی تبدیلی کے لیے 31.03.22 کو یا اس سے پہلے تصدیق شدہ سفر کے ساتھ 'ایک مفت تبدیلی' کی پیشکش کر رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کووڈ -19  کے بڑھتے بحران  کے پیش نظر  ایئر انڈیا نے ہوائی ہوائی مسافروں کو بڑی راحت دی ہے۔ کورونا وائرس COVID-19 کے معاملات کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، تمام گھریلو پروازوں (Domestic Flights)  کے لیے تاریخ یا فلائٹ نمبر میں ایک بار تبدیلی کی سہولت مفت دی گئی ہے۔ ایک ٹویٹ میں، ایئر انڈیا نے کہا کہ گھریلو مسافر 31 مارچ 2022 کو یا اس سے پہلے تصدیق شدہ سفر کے ساتھ تاریخ یا فلائٹ نمبر تبدیل کر سکتے ہیں۔

      ایئر انڈیا Air India نے ٹویٹ میں کہا، "کووڈ کیسز میں اضافے کی وجہ سے حالیہ غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایئر انڈیا تمام گھریلو ٹکٹوں (098) کے لیے تاریخ یا فلائٹ نمبر کی تبدیلی کے لیے 31.03.22 کو یا اس سے پہلے تصدیق شدہ سفر کے ساتھ 'ایک مفت تبدیلی' کی پیشکش کر رہا ہے۔



      کووڈ کی وجہ سے  دباؤ میں ہے ایئر لائنز
      کووڈ کیسز میں اضافے کے ساتھ ایئر لائن انڈسٹری شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔ IndiGo نے کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنی پروازوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ IndiGo کا کہنا ہے کہ فلائٹ سفر شروع ہونے سے کم از کم 72 گھنٹے پہلے منسوخ کر دی جائے گی اور صارفین کو اگلی فلائٹ میں منتقل کر دیا جائے گا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: