اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ایمیزون کی جانب سے ہندوستانی ملازمین کی برطرفی، وزارت محنت قائم کرے گی انکوائری کمیٹی

    ایمیزون افرادی قوت میں سے 10,000 یا 3 فیصد عملہ کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ایمیزون افرادی قوت میں سے 10,000 یا 3 فیصد عملہ کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    حال ہی میں ایمیزون نے غیر معمولی اور غیر یقینی میکرو اکنامک ماحول کے درمیان پوری کمپنی میں ملازمین کو نکالنا شروع کر دیا اور اپنی افرادی قوت میں سے 10,000 یا 3 فیصد کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      ایمیزون کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملازمین کو باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے، اسی ضمن میں حکومت ہند انکوائری شروع کرے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کمپنی میں استعفوں نے لیبر قوانین یا سروس کی شرائط کی کوئی خلاف ورزی کی ہے۔ پچھلے ہفتے وزارت محنت (لیبر منسٹری) نے ایمیزون کو اپنے رضاکارانہ علیحدگی پروگرام (VSP) پر ایک نوٹس بھیجا اور اس سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تھا۔

      ایمیزون کی جانب سے تمام کاموں میں برطرفی کا اعلان کرنے کے بعد اس کی ہندوستانی آفس نے رضاکارانہ علیحدگی پروگرام (VSP) بھیج کر اپنے ملازمین سے رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی تاکید شروع کردی۔ اس نے ملازمین کو بتایا کہ اہل ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پروگرام فوائد کے بدلے رضاکارانہ طور پر ملازمت سے استعفیٰ دینے ہوگا۔ آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پونے کی ایک یونین NITES نے حال ہی میں ایک عرضی پیش کی اور مرکزی حکومت اور ریاستی لیبر حکام سے درخواست کی کہ وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی برطرفی پر مبنی ای میل کے بارے میں انکوائری کریں۔

      آئی ٹی یونین نے دعویٰ کیا کہ ایمیزون نے ہندوستان میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو زبردستی برطرف کیا۔ برطرفی پر بدھ کے روز وزارت محنت کی طرف سے کمپنی کو بنگلورو میں ڈپٹی چیف لیبر کمشنر کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیے جانے کے بعد ایمیزون انڈیا نے کہا کہ اس نے کسی ملازم کو برطرف نہیں کیا ہے بلکہ صرف ان لوگوں کو جانے دیا ہے جو رضاکارانہ علیحدگی پروگرام (VSP) کو قبول کرتے ہیں۔

      حال ہی میں ایمیزون نے غیر معمولی اور غیر یقینی میکرو اکنامک ماحول کے درمیان پوری کمپنی میں ملازمین کو نکالنا شروع کر دیا اور اپنی افرادی قوت میں سے 10,000 یا 3 فیصد کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے سی ای او اینڈی جسی نے یہ بھی کہا کہ ایمیزون 2023 تک ملازمتوں میں کمی کرنا جاری رکھے گا کیونکہ یہ اس کی پالیسی کے مطابق ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      رپورٹس کے مطابق ایمیزون کی تجربہ اور ٹیکنالوجی ٹیم میں L1-L7 بینڈ میں کئی ہندوستانی ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ کمپنی نے مبینہ طور پر ان ملازمین کو ایک نوٹ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ وی ایس پی کے اہل ہیں۔

      کمپنی کے نوٹ کے مطابق اہل ملازمین کو وی ایس پی فوائد کے بدلے ملازمت سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دینے کا موقع ملے گا۔ وی ایس پی کو 16 سے 30 نومبر کے درمیان اسمارٹ فارم کے ذریعے جمع کرانا ہوگا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: