ہوم » نیوز » معیشت

ریلائنس جیو یونیکارنس کمپنیوں کیلئے گیم چینجر: بنک آف امریکہ

بنک آف امریکہ نے کہا ہے کہ مکیش امبانی کی ریلائنس جیو کے ٹیلی مواصلات شعبہ میں داخلہ کے بعد اس نے ملک میں یونیکارنس کمپنیوں کی جنک کی شکل میں پہچان بنائی ہے اور ایسی کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بنک آف امریکہ کی گلوبل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں 11 نئی بھارتیوں کمپنیوں نے یونیکارنس کا تمغہ حاصل کیا۔

  • Share this:
ریلائنس جیو یونیکارنس کمپنیوں کیلئے گیم چینجر: بنک آف امریکہ
ریلائنس جیو یونیکارنس کمپنیوں کیلئے گیم چینجر: بنک آف امریکہ

نئی دہلی، 15 جنوری: بنک آف امریکہ نے کہا ہے کہ مکیش امبانی کی ریلائنس جیو کے ٹیلی مواصلات شعبہ میں داخلہ کے بعد اس نے ملک میں یونیکارنس کمپنیوں کی جنک کی شکل میں پہچان بنائی ہے اور ایسی کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بنک آف امریکہ کی گلوبل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں 11 نئی بھارتیوں کمپنیوں نے یونیکارنس کا تمغہ حاصل کیا۔ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے بازار ویلیویشن والی سٹارٹ اپ کمپنیوں کو یونیکارنس کمپنی کہا جاتا ہے۔ اب تک کل 37 بھارتی سٹارٹ اپ کمپنیاں یونیکارنس بن چکی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کمپنیاں جیو کے لانچ کے بعد ہی وجود میں آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 تک ان کمپنیوں کی تعداد 100 کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیو 4 جی کا آنا بھارت کے انٹر نیٹ سیکٹر کیلئے بازی پلٹنے’’گیم چینجر‘‘ والا ثابت ہوا ہے۔ اس نے کفایتی داموں پر گراہکوں کو انٹر نیٹ مہیا کرایا، جس سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا استعمال کو بڑھاوا ملا۔ ملک میں تقریباً 65 کروڑ انٹرنیٹ یوزرس ہیں، جو اوسطاً 12 جی بی ڈیٹا ماہانہ استعمال کرتے ہیں۔ جیو کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ’بھارت ایک سپلائی پر مبنی بازار ہے اور مانگ پر بازار نہیں‘‘۔ جیو نے سستی قیمتوں پر ڈیٹا اور خدمات فراہم کرکے بازار کے دائرے کو بڑھایا ہے۔ یونیکارنس کمپنیوں کو اس کا بھرپور فائدہ ملا ہے اور اب ریلائنس اپنی ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ 5 جی تکنیک کو بھارتی بازار کے ساتھ بین الاقوامی بازاروں میں اتارنا چاہتی ہے۔

مکیش انبانی نے کچھ وقت پہلے جب ’’ڈیٹا اِز نیو آئل‘‘ کی بات کہی تھی تب کسی کو بھی یہ تصور نہیں تھا کہ بھارت میں 4 جی ڈیٹا پر سوار ہو کر بھارتی اسٹارٹ اپ، یونیکارنس کمپنیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔ ان کمپنیوں کا دائرہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ انفوسس اور وپرو جیسی بڑی مارکٹ کمپنیوں کے بازار پونجی کرن سے لگے گا۔ جہاں بھارتیہ یونیکارنس کمپنیوں کا مشترکہ مارکٹ ویلیویشن 128.9 ارب ڈالر پہنچ چکا ہے وہیں انفوسس کا مارکٹ ویلیویشن 79 ارب ڈالر اور وپرو کا 35 بلین ڈالر ہے ۔ ای۔ کامرس، فوڈ، ایجوکیشن، گیمنگ جیسے کاروبار سے جڑی کچھ بھارتی کمپنیاں اگلے کچھ برسوں میں آئی پی او کا راستہ کا پکڑ کر اپنی توسیع کرسکتی ہیں۔


مکیش انبانی نے کچھ وقت پہلے جب ’’ڈیٹا اِز نیو آئل‘‘ کی بات کہی تھی تب کسی کو بھی یہ تصور نہیں تھا کہ بھارت میں 4 جی ڈیٹا پر سوار ہو کر بھارتی اسٹارٹ اپ، یونیکارنس کمپنیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔
مکیش انبانی نے کچھ وقت پہلے جب ’’ڈیٹا اِز نیو آئل‘‘ کی بات کہی تھی تب کسی کو بھی یہ تصور نہیں تھا کہ بھارت میں 4 جی ڈیٹا پر سوار ہو کر بھارتی اسٹارٹ اپ، یونیکارنس کمپنیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔


یونیکارنس کمپنیوں کے بیچ سب سے زیادہ ویلیویشن ای۔ کامرس اور ٹیکنالوجی سے جڑی کمپنیوں کو ملا ہے۔ کل ویلیویشن کا آدھا انہیں کمپنیوں کے کھاتے میں جاتا ہے۔ ای کامرس کمپنیوں نے یہاں بازی مار لی ہے۔ پانچ ای۔ کامرس کمپنیوں کا ویلیویش یونیکارنس کمپنیوں کے ویلیویشن کا 25 فیصد بیٹھتا ہے۔ فلپ کارٹ اول ہے۔ اکیلے فلپ کارٹ کا ہی بازار ویلیویشن 25 ارب ڈالر ہے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کمپنی پے ٹی ایم 16 ارب ڈالر اور تعلیم سے جڑی بائی جوس 11.1 ارب ڈالر کی بازار ویلیویشن کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ یونیکارنس کمپنیوں کی تعداد کے معاملے میں ملک نے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملک میں 2019 میں 26 یونیکارنس کمپنیاں تھیں، جو 2020 میں 37 ہوگئی، جبکہ برطانیہ میں یہ 2019 میں 21 کے مقابلے 24 ہی ہو پائی۔ مساوی مدت میں جرمنی میں یونیکارنس کی تعداد 11 سے بڑھ کر 12 ہوگئی۔ یونیکارنس کی کل تعداد اور رینکنگ کے معاملے میں بھی ملک دنیا کے کئی ملکوں جیسے جنوبی کوریا، فرانس، اسرائیل، سویٹزر لینڈ سے کہیں آگے نظر آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت پچاس کھرب ڈالر کی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے اور میچور ڈیجیٹل ایکو۔سسٹم اسے تیزی سے اور مضبوطی سے آگے بڑھنے میں مدد کرے گا۔ اعلی مسابقہ جاتی اور قیمت حساس گراہکوں کی وجہ سے بھارت سب سے مشکل بازاروں میں سے ایک ہے۔ بھارتی بازاروں سے سیکھ لیکر دیشی کمپنیاں بین الاقوامی بازاروں کی طرف رخ کررہی ہیں۔ بھارتی کمپنیاں میڈ  ان انڈیا کے تحت عالمی بازار کیلئے بھی مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔ بنک آف امریکہ گلوبل ریسرچ کا ماننا ہے کہ اولا اور اویو کے علاوہ بائی جوس، جومیٹو، میشو، ریبیل فوڈز وغیرہ کمپنیاں بین الاقوامی سطح پر توسیع کیلئے تیار ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 15, 2021 09:21 PM IST