உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بینکنگ سمیت کئی رولس بدل رہے، جانیے آپ کی جیب پر کتنا ہوگا اثر

    1 فروری 2022 سے بینکنگ سمیت کئی رولس بدل رہے

    1 فروری 2022 سے بینکنگ سمیت کئی رولس بدل رہے

    ٹیکس دہندگان کے ساتھ ساتھ تاجروں اور ملازمت پیشہ افراد کو بھی بجٹ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ کاروباری جگہ کو امید ہے کہ حکومت کوویڈ 19 کی تیسری لہر کے دوران معیشت کو فروغ دے اور کاروبار کو بڑھانے میں مدد کرے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یکم فروری 2022 سے بینکنگ سمیت کئی رولس تبدیل ہورہے ہیں۔ آپ کی زندگی سے جڑے ان رولس میں تبدیلی سے آپ کی جیب پر بھی اثر پڑنے والا ہے۔ فروری مہینے میں بینک آف بڑودہ، ایس بی آئی بینک اور پی این بی بینک ٹرانزکشن سے جڑے رولس بدل جائیںگے۔ ساتھ ہی، یکم فروری سے رسوئی گیس سلینڈر کی قیمتیں بدل جائیں گی۔

      ساتھ ہی ایک اہم تبدیلی یہ ہوگی کہ اس دن وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن بجٹ پیش کریں گی۔ اس دن سے بہت سارے اصول بدل جائیں گے۔ ٹیکس دہندگان کے ساتھ ساتھ تاجروں اور ملازمت پیشہ افراد کو بھی بجٹ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ کاروباری جگہ کو امید ہے کہ حکومت کوویڈ 19 کی تیسری لہر کے دوران معیشت کو فروغ دے اور کاروبار کو بڑھانے میں مدد کرے۔

      ٹرانزکشن کی لمٹ بڑھی
      SBI کے مطابق، IMPS کے ذریعے 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے کے درمیان رقم کی منتقلی پر 20 روپے + GST ​​چارج لگے گا۔ اکتوبر 2021 میں، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے IMPS کے ذریعے لین دین کی رقم کو 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا ہے۔ ریزرو بینک نے آئی ایم پی ایس کے ذریعے کی جانے والی لین دین کی حد بڑھا دی تھی۔ اب 2 لاکھ روپے کے بجائے آپ ایک دن میں 5 لاکھ روپے ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔

      بینک آف بڑودہ کے رولس بدل جائیں گے
      یکم فروری سے، بینک آف بڑودہ کے گاہکوں کے چیک کلیئرنس سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی جائے گی۔ اب یکم فروری سے چیک کی ادائیگی کے لیے صارفین کو مثبت پے سسٹم پر عمل کرنا ہوگا۔ یعنی چیک سے متعلق معلومات بھیجنی ہوں گی، تب ہی چیک کلیئر ہوگا۔ یہ تبدیلی 10 لاکھ روپے سے زیادہ کے چیک کلیئرنس کے لیے ہے۔

      PNB پنالٹی لے کر آیا ہے
      پنجاب نیشنل بینک جو قوانین تبدیل کرنے والا ہے اس کا براہ راست اثر آپ کی جیب پر پڑے گا۔ اگر آپ کے اکاؤنٹ میں رقم کی کمی کی وجہ سے قسط یا سرمایہ کاری ناکام ہوجاتی ہے، تو آپ کو 250 روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اب تک یہ جرمانہ 100 روپے تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: