உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغل دور کے دو نایاب چشموں کی نیلامی، چشموں میں لگے ہیرے گولکنڈہ سلطنت سے منگوائے گئے تھے!

    دونوں چشموں سوتھبیز آرٹس آف دی اسلامک ورلڈ اینڈ انڈیا Sotheby's Arts of the Islamic World & India سیل میں پیش کیے جا رہے ہیں

    دونوں چشموں سوتھبیز آرٹس آف دی اسلامک ورلڈ اینڈ انڈیا Sotheby's Arts of the Islamic World & India سیل میں پیش کیے جا رہے ہیں

    الیگزینڈرا رائے نے کہا کہ ’’اس میں لگے ہیرے گولکنڈہ (حیدرآباد، دکن) کی کانوں سے منگوائے گئے تھے اور مغل دربار میں یہ پتھروں سے تراشے گئے تھے جن کا وزن اصل میں دو سے تین سو قیراط ہوتا تھا‘‘۔

    • Share this:
      مغل دور کے دو نایاب و نادر چشموں کو بدھ کے روز لندن میں نیلام ہونے پر 3.5 ملین ڈالر تک ملنے کی توقع ہے۔ جو کہ ہیرے اور زمرد سے لیس ہیں۔ اس کی خوبصورتی دیکھنے والے کو پہلی ہی نظر میں اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

      نیلامی گھر سوتھبیز Sotheby نے کہا کہ یہ چشمے 17ویں صدی کے ایک نامعلوم شہزادے نے استعمال کیے تھے۔ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیمتی پتھر اس دور کی روشن خیالی کی عکاسی کرتے ہیں۔


      ان میں سے ایک چشمے کو ’’جنت کا دروازہ‘‘ Gate of Paradise کا نام دیا گیا ہے، اس میں زمرد کے کلاس لگائے گئے ہیں جو ہیرے سے لگے ہوئے فریموں میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسرے چشمے کا نام ’’ہالو آف لائٹ‘‘ Halo of Light ہے۔ اس میں ہیرے سے لگے ہوئے فریموں میں ہیرے کے عینک لگائے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چشمے 17ویں صدی کے ہیں جبکہ فریم 19ویں صدی کے ہیں۔

      سوتھبیز میں اسلامی دنیا کے فنون کی ماہر الیگزینڈرا رائے Alexandra Roy نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’اس چشمے کے پھیچے بہت سی کہانیاں ہیں۔ زمرد 17 ویں صدی میں کولمبیا سے پرتگالی تجارتی بحری جہازوں کے ذریعے مغل سلطنت تک لایا گیا۔ مغل جواہرات کو بہت پسند کرتے تھے‘‘۔

      الیگزینڈرا رائے نے کہا کہ ’’اس میں لگے ہیرے گولکنڈہ (حیدرآباد، دکن) کی کانوں سے منگوائے گئے تھے اور مغل دربار میں یہ پتھروں سے تراشے گئے تھے جن کا وزن اصل میں دو سے تین سو قیراط ہوتا تھا۔ اس کے بعد 19ویں صدی کے دوران اسے فیشن کے طور پر استعمال کیا جانے لگا‘‘۔

      دونوں چشموں سوتھبیز آرٹس آف دی اسلامک ورلڈ اینڈ انڈیا Sotheby's Arts of the Islamic World & India سیل میں پیش کیے جا رہے ہیں، جن کی قیمت کا تخمینہ 1.5 ملین سے 2.5 ملین پاؤنڈ ہے۔ رائے نے کہا کہ ہم دراصل 80 کی دہائی سے ان چشموں کے بارے میں جانتے ہیتں‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: