اپنا ضلع منتخب کریں۔

    وہاٹس ایپ سے جاسوسی کے کون۔کون ہوئے شکار؟ مودی حکومت نے 4 دن میں طلب کیا جواب

    مرکز نے واٹس ایپ سے اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے معاملے میں چار نومبرتک جواب دینے کو کہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کے علاوہ واٹس سے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ اس نے ہندوستانی یوزرس کی رازداری کی حفاظت کے لیے کیاکیا اقدامات کیے ہیں ۔ادھر اس معاملے میں کانگریس نے حکومت پر حملہ کیا ہے۔

    مرکز نے واٹس ایپ سے اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے معاملے میں چار نومبرتک جواب دینے کو کہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کے علاوہ واٹس سے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ اس نے ہندوستانی یوزرس کی رازداری کی حفاظت کے لیے کیاکیا اقدامات کیے ہیں ۔ادھر اس معاملے میں کانگریس نے حکومت پر حملہ کیا ہے۔

    مرکز نے واٹس ایپ سے اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے معاملے میں چار نومبرتک جواب دینے کو کہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کے علاوہ واٹس سے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ اس نے ہندوستانی یوزرس کی رازداری کی حفاظت کے لیے کیاکیا اقدامات کیے ہیں ۔ادھر اس معاملے میں کانگریس نے حکومت پر حملہ کیا ہے۔

    • Share this:
      واٹس ایپ جاسوسی معاملے پرگھمسان جاری ہے۔ اپوزیشن اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ حکومت نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر آنچ نہیں آنے دیا جائیگا۔ حکومت نے اس سلسلے میں واٹس ایپ کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
      سماجی کارکنوں ،صحافیوں اوردیگر نمائندہ افراد کی واٹس ایپ کے ذریعہ جاسوسی کے معاملے پر وبال مچا ہوا ہے۔ اپوزیشن ، مرکز پرحملہ آور ہے۔ اس بیچ مرکزی حکومت واٹس ایپ پر شہریوں کی رازداری کی خلاف ورزی کے حوالے سے فکرمند ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے حکومت پابند عہد ہے۔
      مرکز نے واٹس ایپ سے اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے معاملے میں چار نومبرتک جواب دینے کو کہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کے علاوہ وہاٹس سے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ اس نے ہندوستانی یوزرس کی رازداری کی حفاظت کے لیے کیاکیا اقدامات کیے ہیں ۔
      مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ وہاٹس ایپ پر ہندوستانی شہریوں کی پرائیویسی ختم ہونے پر حکومت فکر مندہے۔ ہندوستانی شہریوں کی پرائیویسی کی حفاظت کرنے کے لیے جوابدہی کا یقین دلاتے دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘ہم نے وہاٹس ایپ سے پوچھا ہے کہ وہ کس طرح کی خلاف ورزی کی بات کر رہا ہے اور وہ لاکھوں ہندستانی شہریوں کی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے کیا کر رہا ہے۔
      دنیا بھر میں 1400 لوگوں کے فون کئے گئے ہیک
      وہاٹس ایپ نے کہا ہے کہ وہ این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ کرنے جا رہی ہے۔ یہ اسرائیل کی نگرانی کرنے والی کمپنی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی کمپنی نے وہ ٹکنالوجی بنائی ہے جس کے ذریعے نامعلوم اکائیوں نے جاسوسی کے لیے تقریباً 1400 لوگوں کے فون ہیک کئے ہیں۔
      ادھر اس معاملے میں کانگریس نے حکومت پر حملہ کیا ہے۔

      کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا، ‘جو حکومت صحافیوں ، کارکنوں، اپوزیشن کے لیڈران کی جاسوسی کراتی ہے اور اپنے ہی شہریوں کے ساتھ مجرم کی طرح سلوک کرتی ہے وہ جمہوریت میں قیادت کا حق کھو دیتی ہے۔ ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان غیرقانونی سرگرمیوں کو اپنی جانکاری میں لیں اور اس سرکار کو جوابدہ ٹھہرائے۔’





      یہ معاملہ اس وقت روشنی میں آیا جب امریکی کے کیلی فورنیا کی عدالت میں واٹس ایپ گروپ نے اسرائیل کے این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ واٹس ایپ نے الزام عائد کیا کہ اس اسرائیلی گروپ نے اپنے اسپائی ایپ کے ذریعے واٹس ایپ استعمال کرنے والے چودہ سو افراد کی جاسوسی کی ہے۔سمجھاجاتا ہے کہ اس ایپ کے ذریعہ ہندوستان میں بھی کئی افراد کی جاسوسی کی گئی ہے۔خیال رہے کہ یہ ایپ صرف حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کو ہی فروخت کیا جاتا ہے۔
      First published: