بجٹ 2019: اس لئے کسانوں کے کھاتے میں آ سکتے ہیں سالانہ 8000 روپئے!۔

مودی حکومت اپنے بجٹ میں پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم( پی ایم۔ کسان) کے تحت کسانوں کو دی جانے والی امداد بڑھا سکتی ہے۔

Jul 01, 2019 04:49 PM IST | Updated on: Jul 01, 2019 04:49 PM IST
بجٹ 2019: اس لئے کسانوں کے کھاتے میں آ سکتے ہیں سالانہ 8000 روپئے!۔

مودی حکومت اپنے بجٹ میں پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم( پی ایم۔ کسان) کے تحت کسانوں کو دی جانے والی امداد بڑھا سکتی ہے۔

مودی حکومت اپنے بجٹ میں پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم( پی ایم۔ کسان) کے تحت کسانوں کو دی جانے والی امداد بڑھا سکتی ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے اس کی اچھی سیاسی فصل کاٹی ہے۔ اب اسمبلی انتخابات کے مدنظر اور دیہی معیشت کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے حکومت اس اسکیم کے تحت ملنے والے سالانہ 6000 روپئے کو بڑھا کر 8000 روپئے کر سکتی ہے۔ تلنگانہ اور اڈیشہ کی حکومتیں اپنی ریاست کے کسانوں کو مودی حکومت کی اس اسکیم سے کہیں زیادہ امداد دے رہی ہیں۔ اس لئے بھی بجٹ میں کسانوں کے لئے اس کے اضافہ کا تحفہ ملنے کا امکان ہے۔

اب تک ملک کے چار کروڑ کسانوں کو اس اسکیم کے تحت چار ۔ چار ہزار روپئے مل چکے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے جب کسانوں کے کھاتے میں براہ راست طور پر پیسہ جا رہا ہے۔ مرکز کا بھیجا انہیں سو فیصدی پیسہ مل رہا ہے۔ ورنہ اب تک کسانوں کے لئے ہزاروں کروڑ روپئے کے بجٹ بنتے تھے اور وہ پیسے افسران کی فائلوں میں ہی کھو جاتے تھے۔  پیسہ مل رہا ہے تو کاشتکاری کی صحت بھی بہتر ہو رہی ہے اور مارکیٹ میں بہتری آ رہی ہے ۔ کیونکہ کسان یہ پیسہ کہیں نہ کہیں خرچ کر رہا ہے۔

Loading...

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے گروپ چیف اکنامک صلاح کار ڈاکٹر سومیہ کانتی گھوش نے اپنے ایک ریسرچ پیپر میں کہا ہے کہ پی ایم کسان سمان ندھی کا 14 کروڑ کسانوں تک توسیع کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ اگلے پانچ سال کے لئے اسے بڑھا کر 6000 روپئے سالانہ سے 8000 روپئے کرنا چاہئے۔ یہ مارکیٹ میں فیل گڈ فیکٹر اور جوش بڑھائے گا۔ انہوں نے اس کی وجہ بتائی ہے۔

کیا پیسہ بڑھ سکتا ہے؟ یہ سوال جب ہم نے زراعت کے مرکزی وزیر مملکت کیلاش چودھری سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں گنجائش ہے۔ کسانوں کی جیسی ضرورت ہے اس کے حساب سے وزیر اعظم فیصلہ کریں گے۔ حکومت کسانوں کے مفادات کے لئے ہمیشہ کھڑی ہے۔ ان کے لئے یہ حکومت اچھا فیصلہ ہی لے گی۔ ہم یقینی بنا رہے ہیں کہ اس کا فائدہ سبھی کسانوں کو ملے۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

Loading...