உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Budget 2022 : گاوں پر رہے گا وزیر فائنانس کا زور، ہوسکتے ہیں بڑے بڑے عوامی وعدے

    اترپردیش بی جے پی کے لئے ایک اہم ریاست ہے۔ ریاستی اسمبلی الیکشن کے نتائج 2024 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن پر بہت بڑا اثر ڈالیں گے، یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی اچھی طرح سے جانتی ہے۔ کسان آندولن کے بعد کسانوں، خاص کر مغربی اترپردیش کے کسانوں میں پارٹی کی امیج کچھ کمزور ہوئی ہے۔ اب بجٹ، کسانوں کو لبھانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

    اترپردیش بی جے پی کے لئے ایک اہم ریاست ہے۔ ریاستی اسمبلی الیکشن کے نتائج 2024 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن پر بہت بڑا اثر ڈالیں گے، یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی اچھی طرح سے جانتی ہے۔ کسان آندولن کے بعد کسانوں، خاص کر مغربی اترپردیش کے کسانوں میں پارٹی کی امیج کچھ کمزور ہوئی ہے۔ اب بجٹ، کسانوں کو لبھانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

    اترپردیش بی جے پی کے لئے ایک اہم ریاست ہے۔ ریاستی اسمبلی الیکشن کے نتائج 2024 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن پر بہت بڑا اثر ڈالیں گے، یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی اچھی طرح سے جانتی ہے۔ کسان آندولن کے بعد کسانوں، خاص کر مغربی اترپردیش کے کسانوں میں پارٹی کی امیج کچھ کمزور ہوئی ہے۔ اب بجٹ، کسانوں کو لبھانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Budget 2022 : یکم فروری کو پیش ہونے والے بجٹ میں اس مرتبہ حکومت کا فوکس گاوں اور دیہاتوں (Village Centric) پر رہنے کا پورا امکان ہے۔ اترپردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں سبقت حاصل کرنے اور کسان آندولن کے بعد کسانوں میں اپنی امیج کو بہتر بنانے کے لئے حکومت بجٹ میں دیہی ہندوستان کے لئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن (Nirmala Sitharaman) کچھ بڑے اعلان کرسکتی ہیں۔

      اترپردیش بی جے پی کے لئے ایک اہم ریاست ہے۔ ریاستی اسمبلی الیکشن کے نتائج 2024 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن پر بہت بڑا اثر ڈالیں گے، یہ بات بھارتیہ جنتا پارٹی اچھی طرح سے جانتی ہے۔ کسان آندولن کے بعد کسانوں، خاص کر مغربی اترپردیش کے کسانوں میں پارٹی کی امیج کچھ کمزور ہوئی ہے۔ اب بجٹ، کسانوں کو لبھانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

      وعدوں کی برسات
      ماہر اقتصادیات پرنب سین کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں بڑی تعداد میں وعدے ہوں گے، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے۔ یو پی میں بی جے پی (BJP) کا نعرہ ڈبل انجن ہے۔ اس لئے بجٹ میں کچھ ایسی مرکزی اسکیموں کااعلان ہوسکتا ہے، جن سے یو پی جیسے انتخابی ریاستوں میں برسراقتدار حکومت کو فائدہ ہو۔

      مانگ بڑھانے پر زور
      ڈیلائٹ انڈیا سے جڑی ایک اکنامسٹ رومکی مجومدار کہتی ہیں، ’’ڈیمانڈ کرئیشن کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے حکومت روزگار ورک فورس کو بہتر بنانے پر دھیان دے سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے بجٹ گروتھ کو فروغ دینے اور اسٹیبلیٹی بنائے رکھنے کی کوشش ہونے کی امید جتائی ہے۔ اب، مان لیا جائے کہ سیتارمن دیہاتوں کے نوجوانوں کے لئے ایک روزگار اسکیم (Job Scheme) کا اعلان کریں یا پہلے سے چل رہی اسکیموں کے لئے سبسڈی بڑھائیں، تو وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے اس کی زیادہ تفصیل نہیں دے پائیں گی۔ اس سے یو پی اور اتراکھنڈ کے نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ اس سے صرف پیغام شامل ہوگا اور کمپین منیجر اس سے جڑے نعرے کو آگے بڑھائیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: