உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بجٹ سے امیدیں: 8.72 لاکھ خالی عہدوں پر بھرتی کرے مرکز، ہیلتھ اور ہاسپیٹالیٹی سیکٹرس کو ’بوسٹر ڈوز‘ ملے

    بجٹ سے امیدیں: 8.72 لاکھ خالی عہدوں پر بھرتی کرے مرکز

    بجٹ سے امیدیں: 8.72 لاکھ خالی عہدوں پر بھرتی کرے مرکز

    وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو کورونا دور کا دوسرا بجٹ پیش کریں گی۔ جبآشوتوش سے بجٹ کے حوالے سے ان کی توقعات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام زیر التواء خالی عہدوں کو جلد سے جلد پُر کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں نئی ​​ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیزی سے کوشش کرے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:26 سالہ آشوتوش ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے تھے لیکن 2020 میں کورونا کی پہلی لہر میں برطرفی کے باعث ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد اسے نوکری مل گئی لیکن اسے اپنی پچھلی تنخواہ سے کم پر کام کرنا پڑا۔ تاہم دوسری لہر نے اس کام کو بھی چھین لیا۔ اب آشوتوش تقریباً 1 سال سے نوکری کی تلاش میں ہیں۔

      دوسری جانب، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو کورونا دور کا دوسرا بجٹ پیش کریں گی۔ جبآشوتوش سے بجٹ کے حوالے سے ان کی توقعات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام زیر التواء خالی عہدوں کو جلد سے جلد پُر کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں نئی ​​ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیزی سے کوشش کرے۔

      کورونا کی وجہ سے کئی محکموں کی بھرتی پٹری سے اُتری
      گزشتہ 2 سال سے کورونا کی وجہ سے کئی محکموں کی بھرتیاں پٹری سے اتر چکی ہیں۔ پرسونل، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے 29 جولائی 2021 کو راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ 1 مارچ 2020 تک، مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں تقریباً 8.72 لاکھ عہدے خالی ہیں۔ ایسے میں ان آسامیوں کو جلد از جلد بھرتی کیا جائے تاکہ روزگار دیا جا سکے۔

      بھرتی کے عمل کو تیز کریں
      کئی بار دیکھا گیا ہے کہ ویکینسی فارم حاصل کرنے اور جوائننگ کرنے میں 1 سے 2 سال لگتے ہیں۔ ایسے میں حکومت اس بار اس عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔

      انفرا، ہیلتھ اور ہاسپیٹالیٹی سیکٹرس کو بوسٹر پیکیج
      لاک ڈاون اور پابندیوں کا سب سے زیادہ خمیازہ انفرا، ہیلتھ اور ہاسپیٹالیٹی سمیت کئی سیکٹرس کو بھگتنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا نے ہیلتھ کیئر سیکٹر کی خامیوں کو بھی اجاگر کردیا ہے۔ ایسے مین حکومت اس بجٹ میں کئی سیکٹرس پر فوکس کر کے اسے خصوصی پیکیج دے سکتی ہے۔ اس سے آنے والے وقت میں ان سیکٹرس میں روزگار کے امکانات بڑھیں گے۔

      اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر غیر منظم شعبے کے ہاکر اور اسٹریٹ فروش ہوئے ہیں۔ حکومت ان کے لیے ریلیف پیکج بھی لا سکتی ہے۔ماہر اقتصادیات ڈاکٹر کنہیا آہوجا کا کہنا ہے کہ کورونا میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ حکومت اس بجٹ میں مارکیٹ میں سرمائے کے بہاؤ کو بڑھا سکتی ہے۔ اس سے پرائیویٹ سیکٹر میں مزید ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: