உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    LPGکی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے حکومت خرچ کر سکتی ہے 30ہزار کروڑ روپے، تیل کمپنیوں کو مل سکتی ہے اضافی سبسڈی

    ذرائع کے مطابق حکومت اس کے لیے اضافی سبسڈی جاری کر سکتی ہے۔ تیل کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم 25000-30,000 کروڑ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai
    • Share this:
      LPG subsidy: ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اس کے لیے اضافی سبسڈی جاری کر سکتی ہے۔ تیل کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم 25000-30,000 کروڑ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔ تخمینہ شدہ رقم مالی سال 2022-23 کے بجٹ تخمینوں میں مختص کردہ 58,012 کروڑ روپے کی ایل پی جی سبسڈی سے زیادہ ہوگی۔

      CNBC TV-18 نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت اضافی سبسڈی دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اضافی سبسڈی مرکز کی اجولا اسکیم کے لیے بجٹ میں پہلے سے مختص کردہ سبسڈی سے مختلف ہوگی۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے حال ہی میں 19.2 کلوگرام کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 91.50 روپے فی سلنڈر کی کمی کی تھی۔ قیمت میں کمی کے بعد دہلی میں تجارتی سلنڈر کی قیمت 1,976 روپے سے کم ہو کر 1,885 روپے پر آ گئی ہے۔





      14.2 کلو گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ گھریلو سلنڈر کے ریٹ بڑھنے کا اثر عام آدمی کی جیب پر بہت زیادہ پڑا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 244 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی قیمت میں آخری بار جولائی میں فی سلینڈر 50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس وقت دہلی میں بغیر سبسڈی والے ایل پی جی کے 14.2 کلوگرام سلنڈر کی قیمت (Ujjwala Scheme کو چھوڑ کر) 1,053 روپے ہے۔ دوسری طرف، اجولا اسکیم کے فائدہ اٹناے والوں کو یہ 853 روپے میں مل رہا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: