உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب کرایہ داروں کو بھی ادا کرنا پڑے گا 18فیصد GST، جانئے کیا کہتے ہیں نئے قوانین

     Rent or lease attracted GST: یہ فیصلہ گزشتہ ماہ 18 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف وہی کرایہ دار جو جی ایس ٹی GST کے تحت کسی کاروبار کے لیے رجسٹرڈ ہیں اور جو جی ایس ٹی قابل ادائیگی زمرے میں آتے ہیں انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    Rent or lease attracted GST: یہ فیصلہ گزشتہ ماہ 18 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف وہی کرایہ دار جو جی ایس ٹی GST کے تحت کسی کاروبار کے لیے رجسٹرڈ ہیں اور جو جی ایس ٹی قابل ادائیگی زمرے میں آتے ہیں انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    Rent or lease attracted GST: یہ فیصلہ گزشتہ ماہ 18 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف وہی کرایہ دار جو جی ایس ٹی GST کے تحت کسی کاروبار کے لیے رجسٹرڈ ہیں اور جو جی ایس ٹی قابل ادائیگی زمرے میں آتے ہیں انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

    • Share this:
      Rent or lease attracted GST: اب رہائشی جائیداد residential property کے کرائے پر رہنے والے کرایہ داروں کو کرایہ کے ساتھ 18 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ 18 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف وہی کرایہ دار جو جی ایس ٹی GST کے تحت کسی کاروبار کے لیے رجسٹرڈ ہیں اور جو جی ایس ٹی قابل ادائیگی زمرے میں آتے ہیں انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

      پہلے کے قاعدے کے مطابق، کمرشیل پروپرٹی جیسے کہ دفتر یا ریٹیل اسپیس جیسی جگہوں کو کرائے پر لینے پر لیز پر GST لگتا تھا۔ residential property پر کوئی جی ایس ٹی نہیں تھا چاہے وہ کارپوریٹ ہاؤس یا عام کرایہ دار نے کرایہ پر لیا ہو۔

      این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 جولائی 2022 سے نافذ العمل قوانین کے مطابق، جی ایس ٹی رجسٹرڈ کرایہ دار کو ریورس چارج میکانزم (آر سی ایم) (Reverse charge mechanism -RCM) کے تحت ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ وہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے تحت کٹوتی دکھا کر جی ایس ٹی کا دعوی کر سکتا ہے۔

      ساتھ ہی ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ 18 فیصد جی ایس ٹی صرف اس صورت میں لاگو ہوگا جب کرایہ دار جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ ہو اور جی ایس ٹی ریٹرن فائل کرنے کے زمرے میں آتا ہو۔

      Johnson & Johnson بند کرےگی بیبی پاؤڈر کی فروخت، دہائیوں تک رہا کمپنی کا symbolic پروڈکٹ

      Uber نے WhatsApp کیب، بائیک، آتو کی بکنگ شروع کی، جانئے کیسے کام کرے گا نیا فیچر

      جی ایس ٹی ٹرن ااور پر مبنی ہوگا۔
      نئے جی ایس ٹی قانون کے تحت رجسٹرڈ کرایہ دار کے زمرے میں تمام عام اور کارپوریٹ ادارے شامل ہوں گے۔ اگر سالانہ ٹرن اوور مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے تو کاروبار کے مالک کے لیے GST رجسٹریشن کرانا لازمی ہے۔ مقررہ حد کیا ہے، یہ اس کاروبار پر منحصر ہے۔ خدمات فراہم کرنے والے کاروباری مالکان کے لیے سالانہ حد 20 لاکھ روپے کا ٹرن اوور ہے۔

      ساتھ ہی، سامان بیچنے یا سپلائی کرنے والے کاروباری مالکان کے لیے یہ حد 40 لاکھ روپے ہے۔ تاہم، اگر یہ کرایہ دار شمال مشرقی ریاستوں یا خصوصی حیثیت والی ریاست میں رہتا ہے، تو اس کے لیے ٹرن اوور کی مقررہ حد 10 لاکھ روپے سالانہ ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: