உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قرض وصولی کیلئے کسٹمرس کو پریشان نہیں کر سکیں گے بینک ایجنٹ! RBI گورنر بولے، خراب زبان اور دھمکی برداشت نہیں

    ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانتا داس نے جمعہ کو اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ایجنٹوں کی جانب سے کسٹمرس کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانتا داس نے جمعہ کو اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ایجنٹوں کی جانب سے کسٹمرس کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانتا داس نے جمعہ کو اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ایجنٹوں کی جانب سے کسٹمرس کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی. بینک ایجنٹ اب قرض Bank Loan کی وصولی کے لیے صارفین کو ہراساں نہیں کر سکیں گے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانتا داس نے جمعہ کو اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ایجنٹوں کی جانب سے کسٹمرس کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

      گورنر شکتی کانت داس Shaktikanta Das نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ قرض کی وصولی کے لیے ایجنٹوں کے ذریعہ وقتاً فوقتاً کسٹمر کو فون کرنا، بری زبان میں بات کرنا وغیرہ سمیت دیگر سخت طریقوں کا استعمال قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ بینکوں کو قرض کی وصولی کا حق ہے لیکن اس سے کسی کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ خاص طور پر ایجنٹوں کی طرف سے آنے والے فون کالز کو لیکر بینکوں کو مناسب رہنما خطوط پر عمل کرنا چاہئے۔



      Indian Railways نے رد کیں یوپی۔بہار کی ٹرینیں، گجرات، مہاراشٹر، سمیت ان ریاستوں کی بھی۔۔۔


      ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانتا داس نے کہا کہ ریزرو بینک جلد ہی ڈیجیٹل قرض دینے کے نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے رہنما خطوط جاری کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لوگوں کے ساتھ قرض دینے کے نام پر فراڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے لیے آر بی آئی وقتاً فوقتاً رہنما خطوط بھی جاری کرتا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: