உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راشن تولنے میں اب نہیں ہوگی گھپلے بازی، حکومت نے سخت بنا دئے قانون، راشن ڈیلر پر کسا شکنجہ

    آپ کو بتاتے چلیں کہ راشن لینے والے مستحقین کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے کچھ اہم اصول بنائے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کر رہی ہے۔ اس کے تحت راشن کی تقسیم میں گھپلے کرنے والے ڈیلروں پر لگام لگائی جائے گی۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ راشن لینے والے مستحقین کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے کچھ اہم اصول بنائے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کر رہی ہے۔ اس کے تحت راشن کی تقسیم میں گھپلے کرنے والے ڈیلروں پر لگام لگائی جائے گی۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ راشن لینے والے مستحقین کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے کچھ اہم اصول بنائے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کر رہی ہے۔ اس کے تحت راشن کی تقسیم میں گھپلے کرنے والے ڈیلروں پر لگام لگائی جائے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اگر آپ کے پاس بھی راشن کارڈ ہے اور حکومت کی طرف سے ملنے والا راشن لیتے ہیں تو آپ کے لیے خوشخبری ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ راشن لینے والے مستحقین کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے کچھ اہم اصول بنائے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کر رہی ہے۔ اس کے تحت راشن کی تقسیم میں گھپلے کرنے والے ڈیلروں پر لگام لگائی جائے گی۔

      دراصل صارفین کی جانب سے راشن کے وزن میں بے ضابطگیوں کی بہت سی شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد حکومت نے اب راشن کی دکانوں پر الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل قائم کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب کوئی بھی راشن ڈیلر الیکٹرانک پوائنٹ کے بغیر سرکاری راشن شاپ پر راشن فروخت نہیں کر سکے گا۔ اس کے ذریعے راشن کی تقسیم کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے۔

      وہ دہشت گردی کو اسپانسر اور سپورٹ کرتےہیں، انٹرنیشنل منچ سے پی ایم مودی کا پاکستان پر حملہ

      آفتاب بولا: گانجا پی کر نشے میں کیا شردھا کا قتل، دہرادون میں پھینکے لاش کے کچھ ٹکڑے


      نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ کے تحت، مرکزی حکومت نے الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل (ای پی او ایس) کو راشن کی دکانوں پر الیکٹرانک پیمانوں سے جوڑ دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری راشن لینے والے لوگوں کو صحیح مقدار میں راشن ملے۔ حکومت نے راشن کی دکانوں میں شفافیت بڑھانے کے مقصد سے اس نئے اصول کو لاگو کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کم وزن کے معاملات کے حوالے سے صارفین کی جانب سے بہت سی شکایات موصول ہوئی تھیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: