ہوم » نیوز » معیشت

نیاسال :مودی حکومت کاملازمت پیشہ افراد کے لیے بڑا فیصلہ: آپ کی تنخواہوں میں ہوگی یہ بڑی تبدیلی

نئے سال میں، آپ کی پے سیلپ میں تبدیلی ہوگی، یعنی آپ کی بیسک تنخواہ (بیسک سیلری) میں بھی الاؤنسز کا کچھ حصہ شامل ہوسکتاہے

  • Share this:
نیاسال :مودی حکومت کاملازمت پیشہ افراد کے لیے بڑا فیصلہ: آپ کی تنخواہوں میں ہوگی یہ بڑی تبدیلی
الاؤنس کے تعین کا فیصلہ حکومت کوکرناہے اوراس پرنجی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے

نئے سال میں، آپ کی پے سیلپ میں تبدیلی ہوگی، یعنی آپ کی بیسک تنخواہ (بیسک سیلری) میں بھی الاؤنسز کا کچھ حصہ شامل ہوسکتاہے۔ اگرذرائع پریقین کیا جائے تو، کمپنیوں اورحکومت کے مابین ایک معاہدہ طے پایاہے۔ حکومت کی جانب سے مرتبہ کیے گئے نئے قواعد کے مطابق، کسی بھی کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ کے قواعد میں تبدیلی کی گئیہے۔ نئی تبدیلی کے لحاظ سے اب کسی بھی ملازمین کی بیسک تنخواہ اس کل تنخواہ سے50 فیصد سے کم نہیں ہوسکتی ہے۔ تاہم، الاؤنس کے تعین کا فیصلہ حکومت کوکرناہے اوراس پرنجی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ نئی تجویز سے بنیادی تنخواہ میں اضافہ ہوگا اور پی ایف میں جمع ہونے والی رقم میں بھی اضافہ ہوگا، لیکن آپ کو ملنے والی تنخواہ میں کچھ کمی ہوسکتی ہے


کمپنیوں کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کوواضح طورپر فیصلہ کرنا چاہئے کہ کون سے الاؤنس کو بیسک تنخواہ میں رکھا جائے گا اور کون سے الاؤنس نہیں ہوں گے۔
کمپنیوں کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کوواضح طورپر فیصلہ کرنا چاہئے کہ کون سے الاؤنس کو بیسک تنخواہ میں رکھا جائے گا اور کون سے الاؤنس نہیں ہوں گے۔


کمپنیوں کی جانب سے کیے جارہے ہیں یہ سوال


نجی کمپنیوں کا کہناہے کہ وہ ان سوالوں کے جوابات تلاش کررہے ہیں کہ بیسک تنخواہ میں کل تنخواہ کا کتنا حصہ دیا جائے گا؟۔اس میں کتنا اضافہ کیا جائے گا؟کون سے الاؤنس بنیادی تنخواہ کا حصہ ہوں گے؟کون سے الاؤنس کوان سے خارج کردیا جائے گا۔ یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک طویل عرصے سے بات چیت جاری ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اپنی ہدایتوں میں اس کو یقینی بنانے کے لئے کہا تھا۔ ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق ، اس پر کمپنیوں نے اس شرط پراتفاق کیا ہے کہ حکومت کو الاؤنسز کے واضح زمرے مقررکرنے کا اختیاردیاجاناچاہیے

تنخواہ کو لیکرہوسکتے ہیں یہ بڑی فیصلے

ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق ، ایچ آر اے کو بیسک تنخواہ سے دور رکھنے کی تجویزہے۔ بقایا الاؤنسزمیں سے 50 فیصد کوبیسک تنخواہ میں شامل کیا جائے گا۔ ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق ، پی ایل آئی یعنی پرفارمنس لنکڈ بونس کو الاؤنس میں نہیں سمجھا جائے گا۔

ملازمین کی بیسک تنخواہ اس کل تنخواہ سے50 فیصد سے کم نہیں ہوسکتی ہے۔
ملازمین کی بیسک تنخواہ اس کل تنخواہ سے50 فیصد سے کم نہیں ہوسکتی ہے۔


کمپنیوں کے مطالبات

کمپنیوں کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کوواضح طورپر فیصلہ کرنا چاہئے کہ کون سے الاؤنس کو بیسک تنخواہ میں رکھا جائے گا اور کون سے الاؤنس نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ایک شرط یہ رکھی گئی ہے کہ اسے تمام شعبوں پریکساں طورپرلاگو نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کے لئے سیکٹر طے کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق، اب محکمہ لیبرکے حکام اورکمپنیوں کے نمائندوں کی مینٹگ میں اس کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔

کم سے کم اجرت والے کوڈزکومنظوری دے دی گئی ہے اور حکومت نے نئے قواعد بنانے کاعمل شروع کردیاہے۔ حکومت کی جانب سے نئے قواعد کو منظوری ملتے ہی الاؤنس کوبھی بیسک تنخواہ میں شامل کرنے سے آپ کی پے سیلپ میں تبدیل ہوجائیگی۔امکان ظاہرکیاجارہاہے کہ نئی مالی سال سے ان نئے قواعد پرعمل آوری شروع ہوجائیگی
First published: Dec 26, 2019 10:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading