ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونابحران اورلاک ڈاؤن کی وجہ سےضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

دالوں کی قیمتوں میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران فی کیلو 30 تا 50 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، راجستھان ، اترپردیش ، کرناٹک میں دالوں کی پیداوار ہوتی ہے ۔ دنیا بھر میں دالوں کی 25 فیصد پیداوار ہندوستان میں ہوتی ہے ۔ ایک ماہ میں انڈوں ، گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں 10.88 فیصد اور دال و اناج کی قیمتوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے غریب و متوسط طبقہ اور ملازمتوں سے بے روزگار افراد کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔

  • Siasat
  • Last Updated: May 27, 2021 08:58 AM IST
  • Share this:
کورونابحران اورلاک ڈاؤن کی وجہ سےضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ
مہنگائی کی مار،آسمان چھوتی قیمتیں

کورونا بحران سے غریب و متوسط طبقہ بہت زیادہ پریشان ہے ۔ دوسری طرف اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جو ان طبقات پر اضافی مالی بوجھ ثابت ہورہی ہے ۔ اس بحران کے دوران چھوٹی اور متوسط صنعتیں بند ہورہی ہیں ۔ چند صنعتیں و کمپنیاں کام کے دنوں کو کم کرتے ہوئے مزدوروں کو ملازمتوں سے علحدہ کررہی ہیں اس سے شرح بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان حالت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونے سے ملازمتیں اور آمدنی سے محروم ہونے والے افراد کئی مشکلات و دشواریوں سے دوچار ہورہے ہیں ۔ گذشتہ سال معمول کے مطابق بارش ہوئی اور فصلوں کی پیداوار بھی بہتر ہوئی ہے ۔ لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے اس کا اثر تغذیہ بخش غذا پر پڑنے کا خطرہ ہے ۔


ریاستی و مرکزی حکومتوں کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کا وعدہ کیا جارہا ہے تاہم ملک کے مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام توقع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہونے کا تاجرین کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کے معاملے میں ہر کسی کی اپنی اپنی رائے ہے مگر خوردنی تیل ، دالیں ، چاول ، ترکاری وغیرہ کی قیمتیں غریب و متوسط طبقہ کے لیے بہت بڑا بوجھ بن گئی ہے ۔ گذشتہ سال کورونا کی پہلی لہر سے خوردنی تیلوں کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال اپریل میں مختلف اقسام کے خوردنی تیل کی قیمت فی لیٹر 90 تا 100 روپئے تھی جو اب بڑھ کر 180 تا 200 روپئے کے درمیان ہوگئی ہے ۔


بات ضروری اشیا کی ہو یا روزمرہ استعمال ہونے والی چیزوں کی پچھلے کچھ عرصے سے ہر ایک اشیا کے دام میں روز بہ روزاضافہ ہو رہاہے ۔
بات ضروری اشیا کی ہو یا روزمرہ استعمال ہونے والی چیزوں کی پچھلے کچھ عرصے سے ہر ایک اشیا کے دام میں روز بہ روزاضافہ ہو رہاہے ۔


ماضی میں اتنی زیادہ قیمتوں میں کبھی اضافہ نہیں ہوا تھا ۔ دالوں کی قیمتوں میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران فی کیلو 30 تا 50 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، راجستھان ، اترپردیش ، کرناٹک میں دالوں کی پیداوار ہوتی ہے ۔ دنیا بھر میں دالوں کی 25 فیصد پیداوار ہندوستان میں ہوتی ہے ۔ ایک ماہ میں انڈوں ، گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں 10.88 فیصد اور دال و اناج کی قیمتوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے غریب و متوسط طبقہ اور ملازمتوں سے بے روزگار افراد کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔ ماہرین نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ راشن کارڈ کے بغیر غریب عوام کو چاول اور دوسرے اناج مفت تقسیم کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی جن اشیاء کو دوسرے ممالک سے درآمد کرنا ہے اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کرے تاکہ عارضی قلت پیدا ہونے سے جو قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس کو روکا جاسکے ۔۔

قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے جو عوام کے بجٹ پر بھاری پڑرہا ہے ۔
قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے جو عوام کے بجٹ پر بھاری پڑرہا ہے ۔


خوردنی تیلوں جیسے پھلی کا تیل ، وناسپتی ، کھوپرے کا تیل وغیرہ کی ماہانہ اوسط قیمتیں متوسط گھرانوں کیلئے نہایت مشکل بنتے جارہے ہیں ۔ ایندھن سے زیادہ پکوان میں استعمال ہونے والے تیلوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے ۔ گزشتہ روز محکمہ تغذیہ اور عوامی تقسیم نے تمام متعلقہ گوشوں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی اور ریاستوں کے علاوہ تجارتی گھرانوں سے کہا کہ خوردنی تیلوں کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں ۔ خوردنی تیل کی اوسط قیمت گزشتہ سال ماہ مئی کے مقابل 39 فیصد بڑھ چکی ہے ۔ ان قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے جو عوام کے بجٹ پر بھاری پڑرہا ہے ۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 27, 2021 08:55 AM IST