உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میچ باکس کی قیمت میں 14 سال بعد ہوگا اضافہ، یکم ڈسمبر سے دو روپیے میں ملے گا میچ باکس!

    تقریباً پانچ لاکھ لوگ ماچس کی صنعت پر بالواسطہ اور بلااسطہ انحصار کرتے ہیں۔

    تقریباً پانچ لاکھ لوگ ماچس کی صنعت پر بالواسطہ اور بلااسطہ انحصار کرتے ہیں۔

    نیشنل اسمال میچ باکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سکریٹری وی ایس سیتھوراتھینم نے کہا کہ ’’مجوزہ قیمت میں اضافہ 14 سال کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ اس عرضہ میں خام مال کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ 

    • Share this:
      عام زندگی میں استعمال ہونے والی ضروری شئے ماچس باکس Matchbox کی قیمت میں یکم دسمبر 2021 سے مزید ایک روپے کا اضافہ کیا جائے گا اور اسے دو روپے میں فروخت کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا، جس کی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

      نیشنل اسمال میچ باکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن National Small Matchbox Manufacturers Association کے سکریٹری وی ایس سیتھوراتھینم V S Sethurathinam نے کہا کہ میچ باکس کی صنعت کووڈ-19 وبا کی وجہ سے بہت زیادہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جس کی بھرپائی بہت مشکل ہے۔ اسی لیے اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

      انھوں نے کہا کہ جب صارفین ماچس باکس کو 2 روپے میں خریدیں گے تو ایک ڈبے میں ماچس کی مزید اسٹکس کا اضافہ بھی کیا جائے گا، جو کہ 36 ماچس کی اسٹک سے بڑھ کر 50 اسٹکس فی ڈبہ ہوگا۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ صنعت کس طرح کورونا وائرس وبا سے بچ گئی، سیتھوراتھینم نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’’ہمیں یونٹوں کو چلانا تھا ورنہ کارکن دوسری کمپنیوں میں چلے جاتے۔ ماچس ایک ضروری شئے ہے جیسے چاول، چینی وغیرہ۔ ہم نے وبائی مرض کے دوران بھی کام کیا۔ ان ماچس کی تیاری کے لیے جو مشین استعمال کی جاتی ہے اس کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے ہے، ہم اسے بیکار نہیں رہنے دے سکتے۔ کوویڈ کی روک تھام کی وجہ سے ہم بہت بڑے قرضوں میں ڈوب گئے‘‘۔

      سیتھوراتھینم نے کہا کہ مجوزہ قیمت میں اضافہ 14 سال کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خام مال کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس فروخت (زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت) قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے‘‘۔
      انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک عنصر ہے۔ اس کی وجہ سے نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے 1 دسمبر سے ماچس کے ڈبے کی قیمت موجودہ 1 روپے سے بڑھا کر 2 روپے کر دی جائے گی۔

      انھوں نے بتایا کہ ’’تقریباً چھ ماہ کے بعد ہم صورت حال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ 2007 میں قیمت پچاس پیسے سے بڑھا کر 1 روپے فی ماچس کی گئی تھی۔ جب آپ 2 روپے ادا کریں گے تو آپ کو 50 ماچس کی اسٹکیں ملیں گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ تمام ایسوسی ایشنز کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ لاکھ لوگ ماچس کی صنعت پر بالواسطہ اور بلاواسطہ انحصار کرتے ہیں اور 90 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔ تمل ناڈو ماچس کے ڈبوں کا ایک سرکردہ کارخانہ دار ہے اور کوول پٹی، ستور، سیواکاسی، تھیورتھنگل، ایٹا پورم، کازوگوملائی، سنکرانکوئل، گوڈیاتم اور کاویریپکم بڑے پیداواری مراکز ہیں۔ تقریباً 1,000 ماچس کی اکائیاں ہیں جن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ماچس کے مینوفیکچررز بھی شامل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: