உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    DA Update: سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں جلد ہی ہوگااضافہ، مہنگائی الاؤنس میں 4 فیصد اضافہ کی توقع

    رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی اے بقایا جات کا مسئلہ بھی جلد ہی حل کیا جا سکتا ہے

    رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی اے بقایا جات کا مسئلہ بھی جلد ہی حل کیا جا سکتا ہے

    آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (AICPI) وہ پیرامیٹر ہے، جس کی بنیاد پر ڈی اے پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین کے مہنگائی الاؤنس میں اضافے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ جون میں خوردہ افراط زر 7.01 فیصد رہی۔

    • Share this:
      ساتواں پے کمیشن (7th Pay Commission): سرکاری ملازمین کو جلد ہی اپنی تنخواہوں کے بارے میں اچھی خبر مل سکتی ہے کیونکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے مہنگائی الاؤنس (DA) میں 4 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔ آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (صنعتی ورکرز) کا مئی کا ڈیٹا بھی ڈی اے میں ممکنہ اضافے کی تجویز پیش کرتا ہے۔ ڈی اے میں اس ماہ اضافہ کیا جائے گا کیونکہ اس میں سال میں دو بار جنوری اور جولائی نظر ثانی کی جاتی ہے۔

      آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (AICPI) وہ پیرامیٹر ہے، جس کی بنیاد پر ڈی اے پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین کے مہنگائی الاؤنس میں اضافے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ جون میں خوردہ افراط زر 7.01 فیصد رہی، جو آر بی آئی (RBI) کے 2 تا 6 فیصد کے ہدف کی سطح سے زیادہ ہے۔

      تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کے مہنگائی الاؤنس میں 4 فیصد اضافے کا امکان ہے جس کے بعد ڈی اے 38 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ مارچ میں مرکزی کابینہ نے 7ویں پے کمیشن کے تحت مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) میں 3 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دی تھی، اس طرح ڈی اے بنیادی آمدنی کے 34 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس اقدام سے 50 لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین اور 65 لاکھ پنشنرز کو فائدہ ہو رہا ہے۔

      وزیر اعظم نریندر مودی (PM Modi) کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے مرکزی حکومت کے ملازمین کو مہنگائی الاؤنس (DA) کی اضافی قسط اور پنشنرز کو مہنگائی ریلیف (DR) جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 1 جنوری 2022 قیمتوں میں اضافے کی تلافی کے لیے بنیادی تنخواہ/پنشن کے 31 فیصد کی موجودہ شرح سے 3 فیصد کے اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

      رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی اے بقایا جات کا مسئلہ بھی جلد ہی حل کیا جا سکتا ہے اور مرکزی حکومت کے ملازمین کو ایک ہی بار میں 2 لاکھ روپے کے بقایا جات بھی مل سکتے ہیں۔ ڈی اے کے بقایا جات کا فیصلہ ملازمین کے پے بینڈ اور ڈھانچے سے کیا جاتا ہے۔

      مرکز نے 1 جنوری 2020 کے لیے ڈی اے اور ڈی آر کی تین قسطیں روک دی تھیں۔ یکم جولائی 2020 اور یکم جنوری 2021 کو کورونا (COVID-19) کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر یہ کیا گیا تھا۔ اگست 2021 میں راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ڈی اے اور ڈی آر کو روکنے سے تقریباً 34,402 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔

      ساتویں پے کمیشن کے تحت ڈی اے کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے؟

      2006 میں مرکزی حکومت نے مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے ڈی اے اور ڈی آر کا حساب لگانے کے فارمولے پر نظر ثانی کی تھی۔

      مہنگائی الاؤنس فیصد = ((پچھلے 12 مہینوں کے لئے آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس کا اوسط (بنیادی سال 2001=100) -115.76)/115.76)100x
      Dearness Allowance Percentage = ((Average of All-India Consumer Price Index (Base Year 2001=100) for the past 12 months -115.76)/115.76)x100

      یہ بھی پڑھیں: 


      مرکزی پبلک سیکٹر کے ملازمین کے لیے: مہنگائی الاؤنس فیصد = ((آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس کا اوسط (بنیادی سال 2001=100) پچھلے 3 مہینوں کے لیے -126.33)/126.33)100x
      For Central public sector employees: Dearness Allowance Percentage = ((Average of All-India Consumer Price Index (Base Year 2001=100) for the past 3 months -126.33)/126.33)x100
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: