உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Education Budget 2022: سیکھنے کے خلا کو کیا جائے پُر، ای-مواد کا خیر مقدم، لیکن اور بھی ہیں مسائل!

    ڈیجیٹل یونیورسٹی کی تشکیل ایک اچھا اقدام ہے۔

    ڈیجیٹل یونیورسٹی کی تشکیل ایک اچھا اقدام ہے۔

    تعلیمی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ملک بھر کے طلبا کے لیے معیاری تعلیم کی رسائی میں بہتری آئے گی۔ شیو نادر اسکول کے ڈائریکٹر ایجوکیشن ششی بنرجی کہتے ہیں کہ یہ تعلیم کے شعبے میں شمولیت کے لیے ایک بڑی جیت ہے۔

    • Share this:
      یکم فروری 2022 کو مرکزی بجٹ (Union Budget 2022) کا اعلان کیا گیا، جس میں متعدد اقدامات جیسے ڈیجیٹل یونیورسٹی، اپ اسکلنگ، علاقائی زبانوں میں ای-مواد کا تعارف، ملازمت کے وعدے، اسکول جانے والے طلبا کے لیے ٹی وی چینلز اور بہت کچھ متعارف کرایا گیا۔ اگرچہ کچھ ماہرین نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن دوسروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سال میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کی وجہ سے سیکھنے کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے مزید کچھ کیا جا سکتا ہے۔

      ۔21K School کے شریک بانی یشونت راج پارسمل کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل یونیورسٹی کی تشکیل ایک اچھا اقدام ہے، لیکن یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہر بچے کو انٹرنیٹ یا اسمارٹ آلات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل یونیورسٹی کا اعلان بہت خوش آئند ہے لیکن یہ بہتر رسائی اور قابل استطاعت کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ شعبۂ تعلیم کے خامیوں اور زمینی مسائل کو دور کیا جانا ضروری ہے۔

      ون کلاس ون ٹی وی چینل (One class one TV channel) سیکھنے کے نقصان کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ بچوں کے سیکھنے کے خلا کو پر کرنے کے لیے 200 ٹی وی چینلز متعارف کرائے جائیں گے۔ ریاست اور مرکزی سطح کے اسکولوں سمیت ہر کلاس کے لیے ایک چینل وقف کیا جائے گا۔ اس کے لیے فی الحال 12 چینلز ہیں، جن میں سے ہر اول تا بارہویں تک کے مواد کو نشر کیا جاتا ہے۔

      ٹیم لیز ایڈٹیک کی شریک بانی اور صدر نیتی شرما (Neeti Sharma) کہتی ہیں کہ بجٹ میں اسکولوں اور اعلیٰ تعلیم کے طلبا کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے جانے چاہیے تھے۔ این ای پی 2020 میں کئی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی لیے صحیح انفراسٹرکچر کے بغیر اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں قابلیت اور صلاحیت پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

      تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ملک بھر کے طلبا کے لیے معیاری تعلیم کی رسائی میں بہتری آئے گی۔ شیو نادر اسکول کے ڈائریکٹر  آف ایجوکیشن ششی بنرجی کہتے ہیں کہ یہ تعلیم کے شعبے میں شمولیت کے لیے ایک بڑی جیت ہے۔

      اسی لیے اعلیٰ معیار کے ای مواد کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ایک عملی اقدام میں انھوں نے ایک مسابقتی ڈھانچہ تیار کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے اندر اساتذہ کو ڈیجیٹل ٹولز اور تربیت کے ساتھ بااختیار بنایا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: