உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Elon Musk Buy Twitter: ایلن مسک کا ہوا ٹوئٹر، 44 بلین ڈالر(3.3لاکھ کروڑ روپے) میں طے ہوا معاہدہ

    ایلن مسک کا ہوا ٹوئٹر، 44 بلین ڈالر میں طے ہوا معاہدہ

    ایلن مسک کا ہوا ٹوئٹر، 44 بلین ڈالر میں طے ہوا معاہدہ

    Elon Musk Buy Twitter: لمبے وقت تک چلی نہ نکر کے بعد ٹوئٹر کے بورڈ نے ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک کا آفر قبول کرلیا ہے۔ مسک نے ٹوئٹر کو خریدنے کے لئے 44 ارب امریکی ڈالر کی قیمت چکائی ہے۔

    • Share this:
      سوشل میڈیا پر کافی سرگرم رہنے والے ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک لمبے وقت سے ٹوئٹر کے شیئروں میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد اسے خریدنے کی اپنی مضبوط خواہش ظاہر کرچکے تھے۔ فی الحال اب وہ پوری طرح سے ٹوئٹر ان کے نام مالک بن گئے ہیں۔ دراصل، ایلن مسک نے 54.20 ڈالر فی شیئر کے ریٹ پر ٹوئٹر کو خریدنے کا آفر دیا تھا، جسے پیر کی دیر شام ٹوئٹر کے بورڈ نے منظور کرلیا ہے۔ایلن مسک نے 4400 کروڑ امریکن ڈالر یعنی 44بلین ڈالر (3.3 لاکھ کروڑ روپے) میں یہ معاہدہ طئے کیا ہے۔



      واضح رہے کہ 14 اپریل کو ایلن مسک نے ٹوئٹر کو خریدنے کی پیشکش کی تھی۔ حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ وہ حصول کی مالی اعانت کیسے کریں گے؟ دوسری طرف ٹوئٹر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایلن مسک نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر کو اس لئے خریدنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ آزادی اظہار کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنی صلاحیت کے مطابق زندگی گزار رہا ہے۔



      واضح رہے کہ پیر کی شام ایلن مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ ان کے سب سے برے ناقد ابھی بھی ٹوئٹر پر بنے رہیں گے، کیونکہ اسے ہی فری اسپیچ کہا جاتا ہے۔ جس کے بعد سے ہی ان کا یہ ٹوئٹ تیزی سے وائرل ہونے لگا تھا۔ واضح رہے کہ ایلن مسک گزشتہ کچھ وقت سے ٹوئٹر کے شیئروں کو مسلسل خرید رہے تھے، جس کے بعد انہوں نے ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرس سے سیدھے طور پر ٹوئٹر کو خریدنے کی پیشکش کردی تھی۔

      ایلن مسک نے ٹوئٹر کو خریدنے کے لئے 54.20 ڈالر فی شیئر کی قیمت سے معاہدہ کی پیشکش کی تھی۔ فی الحال یہ اعدادوشمار یکم اپریل 2022 کے شیئر کے کلوزنگ ریٹ سے 38 فیصدی زیادہ ہے۔ وہیں سعودی عرب کے پرنس الولید بن تلال السعود جنہوں نے ٹوئٹر میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، انہوں نے ٹوئٹ کرکے ایل مسک کے آفر کو مسترد کردیا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: