உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Elon Musk: ایلون مسک نے 6.9 بلین ڈالر کے 7.92 ملین ٹیسلا حصص کیے فروخت، جانیے تفصیل

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک

    ٹیسلا کے حصص 2010 میں ہر 17 ڈالر میں ڈیبیو ہوئے تھے، یہ قیمت بڑھ کر 2020 کے اسٹاک کی تقسیم کے بعد سال کے آخر میں 1,200 سے زیادہ ہو گئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔

    • Share this:
      ٹیسلا کارپوریشن (Tesla Inc) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک (Elon Musk) نے 6.9 بلین ڈالر کی الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی کے 7.92 ملین حصص فروخت کیے ہیں، چھ امریکی سیکیورٹیز فائلنگز کے تحت منگل کے روز اس کی اطلاع دی گئی ہے۔

      قبل ازیں جمعہ کے روز ٹیسلا نے کہا کہ ان کے تین کے بدلے تقسیم شدہ حصص کی تجارت 25 اگست سے شروع ہو جائے گی، جب الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے اپنی سالانہ میٹنگ کے دوران اس تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ ای وی بنانے والی کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے جمعرات کو کمپنی کی سالانہ میٹنگ میں زیادہ تر معاملات پر بورڈ کی سفارشات کو ووٹ دیا۔ جس میں ڈائریکٹرز کا دوبارہ انتخاب، اسٹاک کی تقسیم کی منظوری، ماحولیات اور گورننس پر مرکوز تجاویز کو پیش کیا گیا۔

      کمپنی نے کہا کہ 17 اگست کو ریکارڈ کے ہر اسٹاک ہولڈر کو ہر ایک حصص کے لیے دو اضافی شیئرز کا ڈیویڈنڈ ملے گا، جو 24 اگست کو ٹریڈنگ کے اختتام کے بعد تقسیم کیے جائیں گے۔ شیئر کی نئی تقسیم دو سال کے بعد سامنے آئی ہے جب پانچ کے بدلے کی تقسیم نے عام سرمایہ کاروں کی پہنچ میں اونچی پرواز کرنے والے اسٹاک کی قیمت کو نیچے لانے میں مدد کی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Google Search down: اچانک گوگل سرچ نے کام کرنا کیا بند! دنیا بھر کے صارفین نے یوں کیاردعمل

      اگرچہ تقسیم کمپنی کے بنیادی اصولوں کو متاثر نہیں کرتی ہے، لیکن یہ سرمایہ کاروں کی وسیع رینج کے لیے اسٹاک کی ملکیت کو آسان بنا کر حصص کی قیمت کو بڑھا سکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      US Court:امریکی’نائنتھ سرکٹ‘کی عدالت میں جج بنی ہندوستانی نژاد روپالی دیسائی

      ٹیسلا کے حصص 2010 میں ہر 17 ڈالر میں ڈیبیو ہوئے تھے، یہ قیمت بڑھ کر 2020 کے اسٹاک کی تقسیم کے بعد سال کے آخر میں 1,200 سے زیادہ ہو گئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: