ہوم » نیوز » معیشت

Future Group-Reliance Deal پر گہرایا بحران ، ایمیزون کو دخل دینے سے روکنے والی فیوچر ریٹیل کی عرضی خارج

دہلی ہائی کورٹ نے فیوچر ریٹیل لیمٹیڈ کی اس عرضی کو خارج کردیا ، جس میں ایمیزون کو اس سودے میں دخل دینے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

  • Share this:
Future Group-Reliance Deal پر گہرایا بحران ، ایمیزون کو دخل دینے سے روکنے والی فیوچر ریٹیل کی عرضی خارج
Future Group-Reliance Deal پر گہرایا بحران ، ایمیزون کو دخل دینے سے روکنے والی فیوچر ریٹیل کی عرضی خارج

فیوچر ریٹیل لمیٹیڈ اور ریلائنس انڈسٹریز لیمیٹڈ کے درمیان ہوئے سودے پر ایک مرتبہ پھر بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو کشور بیانی کی قیادت والے فیوچر ریٹیل لیمیٹڈ کی اس عرضی کو خارج کردیا ، جس میں ایمیزون کو سنگاپور کی آربیٹریشن کورٹ کے فیصلے کے بارے میں سیبی اور سی سی آئی جیسے مالی اداروں کو خط لکھنے سے منع کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔ ایف آر ایل نے اپنی عرضی میں ایمیزون کو اس سودے میں دخل دینے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس مکتا گپتا نے ایف آر ایل کی دلیل کو خارج کردیا ۔


آپ کو بتادیں کہ ایمیزون نے سنگاپور کی آربیٹریشن کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بی ایس ای ، سیبی سمیت کئی اتھاریٹی سے آر آئی ایل ۔ ایف آر ایل سودے کو منظوری نہیں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھا تھا ۔ آپ کو بتادیں کہ اگست میں کشور بیانی کے فیوچر گروپ کو خریدنے کا اعلان آر آئی ایل نے کیا تھا ۔ یہ سودا 24,713 کروڑ روپے میں ہوا تھا ۔


اس کے بعد آر آئی ایل ۔ ایف آر ایل ڈیل کے خلاف ایمیزون نے سنگاپور کی آربیٹریشن کورٹ میں کیس دائر کیا تھا ۔ اس معاملہ میں عدالت نے ایمیزون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سودے پر عبوری روک لگادی تھی ۔ ایمیزون نے سیبی ، اسٹاک ایکسچینج اور سی سی آئی کو خط لکھ کر عدالت کے فیصلہ کو دھیان میں رکھ کر کارروائی کرنے کیلئے کہا تھا ۔


سی سی آئی نے دی ہے ڈیل کو منظوری

قانون کے مطابق سنگاپور آربیٹریشن کورٹ کا فیصلہ براہ راست طور پر ہندوستان میں لاگو نہیں ہوتا ہے ۔ اس کو لاگو کرانے کیلئے ہندوستان کے کسی ہائی کورٹ یا پھر سپریم کورٹ کا حکم ضروری ہے ۔ اس کے بعد ریلائنس اور فیوچر گروپ کے درمیان ہوئے سودے کو سی سی آئی نے منظوری دیدی ۔ اس ڈیل کے تحت فیوچر گروپ اپنا پورا ریٹیل ، ہول سیل ، لائف اسٹائل ، ویئر ہاوسنگ اور لاجسٹکس کاروبار کو ریلائنس ریٹیل کو ٹرانسفر کرے گا ۔ اس ڈیل کے تحت ریلائنس ریٹیل اینڈ فیشن لائف اسٹائل لیمیٹڈ 1200 کروڑ روپے میں ایف آر ایل 6.09 فیصد حصہ داری خریدے گی جو اس کو انضمام کے بعد حاصل ہوگا ۔ اس سودے کے تحت فیوچر گروپ کے ملک بھر میں پھیلے 1800 سے زیادہ اسٹور ریلائنس ریٹیل کو ملیں گے ۔ اس میں فیوچر گروپ کے بگ بازار ، ایف بی بی ، ای جی ڈے ، سینٹرل فوڈ ہال فارمیٹس کے اسٹور شامل ہیں ۔ فیوچر گروپ کے یہ اسٹور ملک کے 420 شہروں میں واقع ہیں ۔

ایمیزون ایف آر ایل میں شیئرہولڈر نہیں

فیوچر گروپ کے وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ ایمیزون نے فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ ( ایف پی آئی ) یا فارن ڈٓائریکٹ انویسٹمنٹ ( ایف ڈی آئی ) کے ذریعہ فیوچر ریٹیل لیمیٹڈ میں سرمایہ کاری نہیں کی ہے ۔ ایف پی آئی کے تحت صرف 10 فیصد حصہ داری خریدنے کی منظوری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمیزون ایف آر ایل میں شیئر ہولڈر نہیں ہے ۔ وہ فیصلہ سازی میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے ۔ اس نے فیوچر گروپ کی کمپنی فیوچر کوپنس میں 1430 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرکے 49 فیصد حصہ داری خریدی ہے ۔ یہ دونوں آزاد اور الگ الگ کمپنیاں ہیں ۔ ایمیزون ایف آر ایل میں شیئر ہولڈر نہیں ہے ، پھر بھی وہ ایف آر ایل کے پروموٹرس سے زیادہ اختیارات چاہتی ہے ۔ اس کا ارادہ صرف ایف آر ایل کو دیوالیہ بنانے کا ہے ۔

(ڈسکلیمر: نیوز 18 اردو ڈاٹ کام ریلائنس انڈسٹریز کی کمپنی نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کا حصہ ہے۔ نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ ریلائنس انڈسٹریز کی ملکیت ہے۔)
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 21, 2020 01:36 PM IST