உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Google: گوگل کی جانب سے ملازمین کو ورک فرم آفس کی نوٹس جاری، ملازمین نے میمز کے ذریعہ کیا غصہ کا اظہار

    اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے اپریل میں دفتر سے کام کرنے کی پالیسی کا جائزہ لیا

    اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے اپریل میں دفتر سے کام کرنے کی پالیسی کا جائزہ لیا

    Work From Office: اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے اپریل میں دفتر سے کام کرنے کی پالیسی کا جائزہ لیا اور ملازمین کے لیے ہر ہفتے کم از کم تین دن دفتر پر رہنا ضروری قرار دیا۔ تاہم ملازمین نے نئے قوانین کی مزاحمت کی ہے کیونکہ وہ گھر سے بہتر طور پر کام کر رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaUAEUAE
    • Share this:
      عالمی وبا کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، لیکن اب بھی دفتر سے یا گھر سے کام کے سلسلے میں کئی کمپنیاں الگ الگ انداز میں کام کررہی ہیں۔ بہت سی کمپنیوں کے ملازمین گذشتہ ایک سال سے گھر سے کام (Work From Home) کررہے ہیں۔ وہیں بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو آفس بلا لیا ہے، جو کہ آفس سے کام (Work From Office) کررہے ہیں۔

      گوگل نے اپنے عملے سے درخوست کی ہے کہ وہ ہفتے میں کم از کم تین دن آفس سے کام کریں۔ چونکہ دن بدن عالمی وبا کورونا وائرس (COVID-19) کے مزید کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جس بنا پر ملازمین اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہو رہے ہیں۔

      اب گوگل (Google) اپنے ملازمین کے لیے گھر سے کام بند کر رہا ہے۔ کورونا کے بعد دفتر میں ملازمین کی واپسی سے کئی تجربے کیے کا جارہے ہیں۔ گوگل کے نئے اصول کے مطابق ملازمین کو وقت کے وقت بھی کام کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

      گوگل کے کچھ ملازمین نے سی این بی سی کے سامنے اعتراف کیا کہ انہیں ان کے ای میل ان باکسز میں مستقل نوٹس موصول ہو رہے ہیں اور کمپنی نے دفتر سے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ ملازمین موجودہ حالات میں میمز کے ذریعے اپنا غصہ کا اظہار کررہے ہیں اور ان میں کئی ایک مایوسی کا شکار ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے اپریل میں دفتر سے کام کرنے کی پالیسی کا جائزہ لیا اور ملازمین کے لیے ہر ہفتے کم از کم تین دن دفتر پر رہنا ضروری قرار دیا۔ تاہم ملازمین نے نئے قوانین کی مزاحمت کی ہے کیونکہ وہ گھر سے بہتر طور پر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے آئی ٹی کمپنی 15 سال میں اپنی آمدنی میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کر رہی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: