உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرمائی اجلاس میں 2 اہم مالیاتی سیکٹر بلز متعارف کرانے کا امکان، بینکوں کی نجکاری اور پنشن سسٹم سے متعلق ترامیم کی امید

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس Winter Session of Parliament کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 میں ترامیم پیش کرنے کا امکان ہے۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت دو اہم مالیاتی سیکٹر بلز financial sector bills متعارف کروا سکتی ہے، جس میں پہلا پبلک سیکٹر بینکوں کی نجکاری کی سہولت کے لیے مجوزہ قانون ہے۔ جس کے بارے میں وزیر خزانہ نے بجٹ میں اعلان کیا تھا۔ دوسرا بل حکومت کی جانب سے پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (PFRDA) ایکٹ 2013 میں بھی ترامیم پیش کرنے کا امکان ہے، تاکہ نیشنل پنشن سسٹم ٹرسٹ (NPS) کو پی ایف آر ڈے اے سے یونیورسل پنشن کوریج کو یقینی بنانے کے لیے الگ کیا جا سکے۔

      ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس Winter Session of Parliament کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 میں ترامیم پیش کرنے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ بینکوں کی نجکاری کے لیے بینکنگ کمپنیز (ایکوزیشن اینڈ ٹرانسفر آف انڈرٹیکنگز) ایکٹ 1970 اور بینکنگ کمپنیز (ایکسائزیشن اینڈ ٹرانسفر آف انڈرٹیکنگز) ایکٹ 1980 میں ترامیم کی ضرورت پر بھی غور و خوص ہوگا۔

      ایس بی آبی بینک کی فائل فوٹو


      قومی بینکوں کی نجکاری

      ذرائع کے مطابق یہ ایکٹ دو مرحلوں میں بینکوں کو قومیانے nationalisation of banks کا باعث بنا اور بینکوں کی نجکاری کے لیے ان قوانین کی دفعات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کا ایک ماہ طویل سرمائی اجلاس اگلے ماہ کے آخر تک شروع ہونے کی امید ہے۔اس دوران گرانٹس کے ضمنی مطالبات کی دوسری کھیپ کو بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ جو حکومت کو فائناس بل کے علاوہ اضافی اخراجات اٹھانے کی اجازت دیتی ہے۔
      وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن Nirmala Sitharaman نے 2021 تا 2022 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے 1.75 لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کے لیے ڈس انویسٹمنٹ مہم کے ایک حصے کے طور پر پبلک سیکٹر بینکوں (PSBs) کی نجکاری کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئی ڈی بی آئی بینک کے علاوہ ہم نے 2021-22 میں دو پبلک سیکٹر بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری کی تجویز پیش کی ہے‘‘۔

      جنرل انشورنس بزنس (نیشنلائزیشن) ترمیمی بل 2021

      ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اگست 2021 میں ختم ہونے والے مانسون سیشن میں جنرل انشورنس بزنس (نیشنلائزیشن) ترمیمی بل 2021 کے لیے پہلے ہی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس دوران پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ PFRDA میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ NPS ٹرسٹ کے اختیارات، افعال اور فرائض جو فی الحال PFRDA (نیشنل پنشن سسٹم ٹرسٹ) ریگولیشنز 2015 کے تحت متعین ہیں، چیریٹیبل ٹرسٹ یا کمپنیز ایکٹ کے تحت آ سکتے ہیں۔

      مرکزی حکومت کی جانب سے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 میں ترامیم پیش کرنے کا امکان ہے۔


      اس کے پیچھے کا مقصد این پی ایس ٹرسٹ کو پنشن ریگولیٹر سے الگ رکھنا ہے اور اس کا انتظام 15 ممبروں کے ایک قابل بورڈ کے ذریعے کرنا ہے۔ اس میں سے ارکان کی اکثریت حکومت سے ہونے کا امکان ہے کیونکہ ریاستیں، کارپس میں سب سے زیادہ شراکت دار ہیں۔ یہ ٹرسٹ PFRDA کے ذریعے NPS کے تحت اثاثوں اور فنڈز کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ملازمت کے دو کرداروں کو الگ کرنے کی تجویز گزشتہ چند سالوں سے زیر غور ہے۔

      پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ پنشن سیکٹر کی منظم ترقی کو فروغ دینے اور یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس کے پاس پنشن فنڈز، مرکزی ریکارڈ رکھنے والی ایجنسی اور دیگر ثالثوں پر کافی اختیارات ہیں۔ یہ اراکین کے مفادات کا بھی تحفظ کرتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: