உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایمیزون پر 'روح افزا' کے نام سے بیجھی جارہی تھی پاکستانی شربت، ہائی کوٹ نے انہیں ہندوستان سے ہٹانے کا دیا حکم۔

    مدعیان نے دعویٰ کیا کہ گولڈن لیف نامی کمپنی ایمیزون انڈیا پر 'روح افزا' کے برانڈ نام سے پروڈکٹس بیجھ رہی تھی جو ان کی طرف سے فروخت نہیں کی گئی تھیں۔

    مدعیان نے دعویٰ کیا کہ گولڈن لیف نامی کمپنی ایمیزون انڈیا پر 'روح افزا' کے برانڈ نام سے پروڈکٹس بیجھ رہی تھی جو ان کی طرف سے فروخت نہیں کی گئی تھیں۔

    ہائی کوٹ نے ایمیزون کو پاکستانی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ "روح افزا" کے نام سے بنی شربت کی قسموں کو ہندوستان میں اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔مدعیوں نے دعویٰ کیا کہ گولڈن لیف نامی کمپنی ایمیزون انڈیا پر ’روح افزا‘ کے ٹریڈ مارک کے تحت پروڈکٹ فروخت کر رہی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Telangana | Jammu and Kashmir | Kolkata
    • Share this:
      دہلی ہائی کورٹ نے ایمیزون کو پاکستانی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ 'روح افزا' کے برانڈ نام سے بنی شربت کی قسموں کو ہندوستان میں اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔

      عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت آیا جب سماجی بہبود کی این جی او ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن (انڈیا) نے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں تیار کردہ شربت ایک جیسے نام سے ہندوستان میں فروخت ہو رہی ہیں۔

      این جی او کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں ای کامرس سائٹ پر کچھ 'روح افزا' ہمدرد لیبارٹریز (انڈیا) کے ذریعہ نہیں بنائی جاتی بلکہ وہ پاکستانی کمپنیوں کی طرف سے تیار کی جاتی ہے اور ان کی معلومات پیکیجنگ پر درج نہیں ہیں۔

      ہائی کورٹ نے ہمدرد کے حق میں مقدمہ کا فیصلہ سنایا کیونکہ ہمدر نیشنل فاؤنڈیشن نے 1907 میں 'روح افزا' نام اپنایا تھا۔ کمپنی اس برانڈ نام کے تحت سالانہ 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی مصنوعات فروخت کرتی ہے۔

      جسٹس پرتھیبا سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اگر مدعی (ہمدرد) کے 'روح افزا' کے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کرنے والی کوئی بھی بیچنے والے پایا جاتا ہیں تو اسے ایمیزون انڈیا کے نوٹس میں لایا جائے گا اور اسے انفارمیشن ٹیکنالوجی (درمیانی رہنما خطوط اور ڈیجیٹل میڈیا اخلاقیات کوڈ) قواعد کے مطابق ایمیزون سے ہٹا دیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: وہاٹس ایپ کے انڈیا ہیڈ ابھیجیت بوس اور میٹا کے پبلک پالیسی سربراہ راجیو اگروال نے دیا استعفی
       ہائی کورٹ کا حکم اس وقت آیا جب ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن (انڈیا) اور ہمدرد دواخانہ کی طرف سے ایمیزون سیلر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور گولڈن لیف کے خلاف ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے آیا ہے۔

      مدعیوں نے دعویٰ کیا کہ گولڈن لیف نامی کمپنی ایمیزون انڈیا پر ’روح افزا‘ کے ٹریڈ مارک کے تحت پروڈکٹ فروخت کر رہی تھی۔

      ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کرنے والی پروڈکٹ پاکستان میں تیار کیے گئے تھیں اور وہ لیگل میٹرولوجی ایکٹ اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے تقاضوں کی تعمیل نہیں کرتی ہے جو ہندوستان میں ایسی پروڈکٹس کی نگرانی کرتا ہے۔

      مدعیان نے کہا کہ ہم نے ایمیزون پر تین فروخت کنندگان سے تین خریداریاں کی اور تمام خوردہ فروش نے دعویٰ کیا کہ یہ پروڈکٹ ہمدرد لیبارٹریز (وقف) پاکستان نے تیار کیے ہیں۔
      Published by:Faheem Mir
      First published: