ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

پٹرول کی منفی قیمتوں کا کیسے پڑے گااثر:کیاپٹرول مفت میں دلوانے کے بعد،آپ کوملیں گے پیسے؟

کورونا وائرس کی وجہ سے 90 فیصد دنیا لاک ڈاؤن ہے ۔جس کا اثر اب تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کم ڈیمانڈ اور زیادہ پیدا وار کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اتنی کم ہو گئی ہیں کہ اب اسکا حساب منفی قیمت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

  • Share this:
پٹرول کی منفی قیمتوں کا کیسے پڑے گااثر:کیاپٹرول مفت میں دلوانے کے بعد،آپ کوملیں گے پیسے؟
کورونا وائرس کی وجہ سے 90 فیصد دنیا لاک ڈاؤن ہے ۔جس کا اثر اب تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کم ڈیمانڈ اور زیادہ پیدا وار کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اتنی کم ہو گئی ہیں کہ اب اسکا حساب منفی قیمت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

کورونا وائرس کی وجہ سے 90 فیصد دنیا لاک ڈاؤن ہے ۔جس کا اثر اب تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کم ڈیمانڈ اور زیادہ پیدا وار کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اتنی کم ہو گئی ہیں کہ اب اسکا حساب منفی قیمت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یعنی تیل کی ڈیمانڈ سے زیادہ سپلائی کی وجہ سے کمپنیوں کو تیل کا ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینکرز کرایہ پر حاصل کرنا پڑھ رہا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے کمپنیاں اپنے خریداروں کو تیل خریدنے کے بدلے میں ان سے پیسہ لینے کے بجائے الٹا انہیں ادا کر رہی ہیں۔ جسکی وجہ سے تیل کی قیمت منفی ہو چکی ہے تیل کی کمپنیوں کے پاس تیل کے ذخیرہ کے محدود وسائل ہیں ۔ شدید ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے تیل کو ضائع بھی نہیں کر سکتے ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔ اس صورتحال میں خریداروں کو ادائیگی کے ذریعہ پٹرول بیچنا ہی انکے لیے واحد راستہ ہے۔ اس طرح امریکہ میں اس ہفتہ کی ابتداء کروڈ آئل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل سے ہو ئی۔


پٹرول کی منفی قیمت کا ہندوستان کے لیے کیا مطلب ہے؟ ۔ کیا یہاں بھی قیمتیں بہت کام ہو جائیں گی؟۔ اتنی کہ پٹرول دلوانے پر ہمیں پٹرول پمپ والا پیسے ادا کرے گا ۔ بالکل نہیں ، منفی قیمتیں صرف امریکی مارکٹ کی حد تک محدود ہیں کیوں کہ امریکی تیل کے تجرین کو تیل نکالنے والی کمپنیوں سے کیے گئے معاہدہ کے مطابق 21 اپریل تک تیل کو حاصل کرلینا تھا ۔ اسلئے انہیں مشکلات کی وجہ سے قیمت گر کر منفی ہوگی تھی جب کہ دوسری مارکیٹس میں پٹرول کی قیمت 20 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے۔ ایک عام صارف کو تیل کی گھٹتی قیمتوں کا فائدہ ملے نہ ملے ۔ ہندوستان کو تیل کی گھٹتی قیمتوں کی وجہ سے بہت بڑی رقم کا فائدہ ضرور ہوگا۔


ملک میں عام حالات میں تیل کی سالانہ کھپت 1.4 بلین بیرل ہے۔ سال 2012 سے سال 2016 کے دوران تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے گھٹتی ہوئی 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تو ہمیں سالانہ 80 بلین ڈالر کی بچت ہوئی تھی جو کہ بہت بڑی رقم ہے جو دوسری ضروریات کے کام آسکتی ہے لیکن اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان مستقبل میں بھی اسی طرح قائم رہے تو اسکا سیدھا اثر خلیجی ممالک کی معیشت پر پڑھے گا ۔


اسکا مطلب ہے وہاں کام کرنے والےہمارے 8 ملین افراد پر اسکا اثر پڑ سکتا ہے جو سالانہ 75 بلین امریکی ڈالر کما کر وطن کو بھیجتے ہیں ۔ اگر کورونا کی وجہ سے حالات بہتر نہ ہو اور دنیا کو اسی طرح مزید وقفہ کے لیے لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑے تو پٹرول کی قیمتوں میں گراؤٹ ہوتی رہی تو خدشہ ہے بہت سی کمپنیاں اس شعبہ سے دستبردار ہو جائیں گی ۔ کم طلب کی وجہ سے تیل کے نئے ذخائر کھوجنے میں بھی دلچسپی کم ہو جائے گی ۔ لیکن جب حالات معمول پر آجائیں اورپھر ایک بار پٹرول کی طلب میں اضافہ ہو جائے تو اچانک تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔
First published: Apr 22, 2020 08:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading