உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India UAE relations: آج ہندوستان و یو اے ای کےوزراء کی ملاقات، تجارتی تعلقات پرتبادلہ خیال

    'ہندوستان 2025 تک 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی حاصل کرنے کے ایک پرجوش راستے پر گامزن ہے‘

    'ہندوستان 2025 تک 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی حاصل کرنے کے ایک پرجوش راستے پر گامزن ہے‘

    اس دورے میں ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے اہم سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت 65.1 بلین امریکی ڈالر رہی، جس سے متحدہ عرب امارات ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    • Share this:
      منگل کے روز ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل (Piyush Goyal ) آج یعنی 11 مئی 2022 بدھ کو متحدہ عرب امارات (UAE) کے وزیر اقتصادیات عبداللہ بن توق المری (Abdulla Bin Touq Al Marri) سے ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بدھ سے ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔

      وزارت تجارت نے کہا کہ دورے کے دوران وفد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری پر بات چیت کے لیے بالترتیب 11 مئی اور 13 مئی 2022 کو تجارت اور صنعت، امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم اور ٹیکسٹائل کے وزیر پیوش گوئل سے نئی دہلی اور ممبئی میں ملاقات کرے گا۔ وزٓرت کے ذرائع نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے قریبی اور متحرک اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

      اس دورے میں ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے اہم سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت 65.1 بلین امریکی ڈالر رہی، جس سے متحدہ عرب امارات ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

      مزید پڑھیں: Classes with News18: جدید تاریخ میں اب تک کی بدنام زمانہ جنگیں کونسی ہیں؟ جانیے تفصیلات

      ذرائع نے کہا کہ ہندوستان 2025 تک 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی حاصل کرنے کے ایک پرجوش راستے پر گامزن ہے اور متحدہ عرب امارات کو اس مقصد کو حاصل کرنے کے ہندوستان کے سفر میں ایک قابل قدر شراکت دار کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

      مزید پڑھیں: جموں وکشمیر: غیر بی جے پی سیاسی جماعتیں کیوں کر رہی ہیں حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت: جانئے سیاسی ایکسپرٹ کی رائے


      یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی دہلی اور ممبئی میں متعدد مصروفیات بشمول B2B واقعات، صنعتی نمائندوں سے بات چیت بھی اس دورے میں شامل ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ یو اے ای وفد کا ملک میں قیام کے دوران سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں طے کی گئی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: