உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیو انرجی کے دم پر آئندہ 20 سالوں میں ہندوستان بنے گا Superpower : مکیش امبانی

    نیو انرجی کے دم پر  آئندہ 20 سالوں میں ہندوستان بنے گا Superpower : مکیش امبانی

    نیو انرجی کے دم پر آئندہ 20 سالوں میں ہندوستان بنے گا Superpower : مکیش امبانی

    ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے کہا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں ہندوستان نیو انرجی کے دم پر گلوبل پاور کا درجہ حاصل کرلے گا۔ امبانی 23 سے 25 فروری تک "ایشین اکنامک ڈائیلاگ 2022 ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے کہا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں ہندوستان نیو انرجی کے دم پر گلوبل پاور کا درجہ حاصل کرلے گا۔ امبانی 23 سے 25 فروری تک "ایشین اکنامک ڈائیلاگ 2022 ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ پونے انٹرنیشنل سینٹر کے صدر رگھوناتھ ماشیلکر کے ساتھ بات چیت کے دوران مکیش امبانی نے کہا کہ اگلی دو دہائیوں میں 20 سے 30 بھارتی انرجی کمپنیاں ریلائنس جتنی بڑی ہونے کا دم رکھتی ہیں ۔

      امبانی نے کہا کہ نیو انرجی کے شعبہ میں دنیا کا تعین کر ایک بار پھر سے کرنے کی طاقت ہے۔ مثال کے طور پر جب لکڑی کو کوئلے میں تبدیل کیا گیا تو یورپ نے ہندوستان اور چین کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اسی طرح تیل سے امریکہ اور مغربی ایشیا کے ملک کہیں آگے نکل گئے ۔ اب ہندوستان کے لیے وقت آگیا ہے، جب ہندوستان گرین اور کلین انرجی خود کفیل ہوگا اور اسے برآمد کرے گا تو ہندوستان کو عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ گرین انرجی نہ صرف ہندوستان کو عالمی طاقت بنائے گی بلکہ روزگار بھی پیدا کرے گی۔ اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔

      وزیر اعظم کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے مکیش امبانی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ، نیو اور کلین انرجی کے بہت بڑے حامی ہیں۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں حکومت نے نیو انرجی کیلئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ایسی پالیسیاں لائی گئی ہیں ، جو اسے سپورٹ کرتی ہیں۔ جس طرح ہندوستان آئی ٹی سیکٹر کی سپر پاور ہے اسی طرح ہندوستان قابل تجدید توانائی میں بھی عالمی رہنما بن جائے گا۔

      انہوں نے کہا کہ اگلے 20 سالوں میں ہندوستان سے گرین اور کلین انرجی کی برآمدات نصف ٹریلین ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے ہندوستان دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: