ہوم » نیوز » معیشت

انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتھی کا 5.5 ملین پاؤنڈ ٹیکس کا تنازعہ آیا سامنے

کلاؤڈ ٹیل کے حالیہ کھاتوں میں کہا گیا ہے کہ ’’کمپنی کو رواں سال میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف گڈس اینڈ سروس ٹیکس انٹیلی جنس (Directorate General of Goods and Service Tax Intelligence ) کی جانب سے سروس ٹیکس سے متعلق معاملات میں سود اور جرمانے کے ساتھ 5455 لاکھ (5.5 ملین پاؤنڈ) کی وجہ سے شوکاز نوٹس موصول ہوا ہے‘‘۔

  • Share this:
انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتھی کا 5.5 ملین پاؤنڈ ٹیکس کا تنازعہ آیا سامنے
کلاؤڈ ٹیل کے حالیہ کھاتوں میں کہا گیا ہے کہ ’’کمپنی کو رواں سال میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف گڈس اینڈ سروس ٹیکس انٹیلی جنس (Directorate General of Goods and Service Tax Intelligence ) کی جانب سے سروس ٹیکس سے متعلق معاملات میں سود اور جرمانے کے ساتھ 5455 لاکھ (5.5 ملین پاؤنڈ) کی وجہ سے شوکاز نوٹس موصول ہوا ہے‘‘۔

دی گارڈین نے بتایا کہ برطانیہ کے چانسلر رشی سنک (Rishi Sunak) کے ارب پتی سسرال اور آن لائن کاروبار کے پلیٹ فارم ایمیزون کے مابین جوائنٹ وینچر ٹیکس حکام کے ساتھ ملٹی پاؤنڈ (multimillion-pound ) تنازعہ سامنے آیا ہے۔ اس انکشاف نے اس وقت مشترکہ منصوبے میں شامل قانونی لڑائیوں کی فہرست میں مزید اضافہ کیا ہے ، جب ہندوستان کے مسابقتی کمیشن کو ایمیزون کے بارے میں تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔


دی گارڈین نے اطلاع دی کہ چھوٹے تاجروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ملٹی نیشنل کمنی کی فروخت کی کاروائیوں کے ذریعہ کاروبار سے انکار کر رہے ہیں اور یہ کہ امریکی خوردہ فروش کا چانسلر کے سسر ٹیکنالوجی کے کاروباری این آر نارائنا مورتی (NR Narayana Murthy) کے ساتھ ایک سال میں ہونے والا منصوبہ میں ہندوستانی غیر ملکی ملکیت (Indian foreign ownership rules) کے قواعد کو نظرانداز کیا گیا۔ ایمیزون کا کہنا ہے کہ وہ مقامی قوانین کی مکمل تعمیل کر رہی ہے۔


ٹیکس کے معاملے کا ظہور پچھلے ہفتے جی 7 کے مباحثوں کے بعد ہوا، جب دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے وزرائے خزانہ نے ٹیک کمپنیوں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے لئے بنائے جانے والے عالمی معاہدے پر اتفاق کیا۔


ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں پر آن لائن خوردہ فروش چلانے پر پابندی عائد ہے جس میں انوینٹری موجود ہے اور پھر وہ سامان براہ راست ہندوستانی صارفین کو آن لائن فروخت کرتا ہے۔ اس کے بجائے ایمیزون ڈاٹ ویب سائٹ کو ایک "مارکیٹ پلیس" کے طور پر چلایا جاتا ہے اور ہندوستانی خوردہ فروش امریکی کمپنیاں کو فیس کے عوض اس سائٹ کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔

ایمیزون ڈاٹ کام پر سب سے زیادہ فروخت کنندگان میں سے ایک کلاؤڈ ٹیل (Cloudtail) نامی ایک کمپنی ہے، یہ کاروبار بالواسطہ طور پر 76 فی صد ہے۔ کلاؤڈ ٹیل کے باقی حصے ایمیزون کی ملکیت ہے۔

گارڈین کے ذریعہ کمپنی کے اکاؤنٹس اور سرگرمیوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کلاؤڈ ٹیل 5.5 ملین پاؤنڈ کی مانگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے - جس میں سود اور جرمانے بھی شامل ہے - پچھلے چار سال میں بزنس ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکس حکام نے معمولی ٹیکس ادا کیا ہے۔ ایمیزون نے اپنے دو عہدوں یعنی چیف ایکزیکیٹو اور فنانس ڈائریکٹر کو ایمیزون کے ایگزیکٹوز سے پُر کیا ہے ، جبکہ کلاوڈ ٹیل کی ہولڈنگ کمپنی ، پروین (Prione) کو بھی ایمیزون کے سابق مینیجرز نے چلایا ہے۔

کلاؤڈ ٹیل کے حالیہ کھاتوں میں کہا گیا ہے کہ ’’کمپنی کو رواں سال میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف گڈس اینڈ سروس ٹیکس انٹیلی جنس (Directorate General of Goods and Service Tax Intelligence ) کی جانب سے سروس ٹیکس سے متعلق معاملات میں سود اور جرمانے کے ساتھ 5455 لاکھ (5.5 ملین پاؤنڈ) کی وجہ سے شوکاز نوٹس موصول ہوا ہے‘‘۔

ٹیکس تنازعہ کے بارے میں قطعی طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ ’’وہ اس بل کا مقابلہ کررہی ہے اور مزید کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سب کا فیصلہ ہے لہذا ہم اس بارے میں مزید کوئی رائے دینے سے قاصر ہیں‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 15, 2021 11:20 AM IST